صدر زرداری کے خلاف فیصلے پر سندھ میں احتجاج

ایوانِ صدر میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہیئیں: لاہور ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشنایوانِ صدر میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہیئیں: لاہور ہائی کورٹ

سندھ اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے <link type="page"><caption> لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110512_zardari_dual_office_zs.shtml" platform="highweb"/></link>پر احتجاج کیا ہے جس میں صدر آصف علی زرداری کو تنظیم کی صدارت چھوڑنے اور ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کو پیپلز پارٹی نے نامزد کیا اور عوام کے نمائندوں نے منتخب کیا تھا اور انہوں نے مارشل لا لگا کر اپنا انتخاب نہیں کرایا۔

ان کے مطابق عوام کو اس کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے جبکہ آئین انہیں یہ حق دیتا ہے جس سے وہ ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بحث کے وقت ایوان سے متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ قاف کے اراکین اٹھ کر چلے گئےتھے۔ پیپلز پارٹی نے پیر کے روز قرار دادا پیش کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔

پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالتی تاریخ کا ایک منفرد فیصلہ ہے جس میں ایک سربراہِ ممملکت کو قانونی مشورہ دیا گیا ہے جو انہوں نے مانگا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق جسٹس منیر سے لیکر آج تک جتنے بھی ’جوڈیشل گھپلے‘ ہوئے ہیں ان کا جائزہ لیا جائے ورنہ اس قسم کے فیصلےآتے رہیں گے۔‘

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مائنڈ سیٹ کی نشانی ہے’یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس نے کبھی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی قیادت پر حملہ کیا ہے۔‘

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر پیپلز پارٹی کے ورکر اتنے کمزور نہیں اور وہ آج بھی جان دینے کے لیے تیار ہیں۔

صوبائی وزیر رفیق انجنیئر کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کو اس سے قبل بھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا، ’جھوٹے‘ مقدمات بنائےگئے مگر یہ سارے حربے صدر زرداری کو ان کے عزم سے ہٹا نہ سکے۔

حکمران پیپلز پارٹی کے اراکین نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کے اجلاس میں شرکت کی اور کئی نے سندھی ٹوپی اور اجرک اوڑھی ہوئیں تھیں۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ کی اپیل پر کراچی سمیت ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔