’قدغن نہیں لگائی جا سکتی‘

اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ اگلے انتخابات کا انتظار کرے: بابر اعوان
،تصویر کا کیپشناگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ اگلے انتخابات کا انتظار کرے: بابر اعوان

حکمران جماعت پاکستا پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ آئین کی رو سے صدر کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے صدر زرداری کے دو عہدے رکھنے سے متعلق درخواست پر فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے سابق وزیر قانون بابر اعوان نےاسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ابھی تک لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں پڑھا ہے اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے اور فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی حکومت کے قانونی ماہرین اس پر رائے دیں گے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں توقع ظاہر کی تھی صدر پاکستان اپنے آپ کو پارٹی کے سیاسی عہدے سے الگ کر لیں گے اور ایوان صدر کو کسی خاص سیاسی جماعت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سنہ انیس سو تہتر کے آئین کی رو سے صدر پر سیاست میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘۔

‘یہ عہدہ ( صدر کا عہدہ) آئین کے مطابق سیاسی طور پر تشکیل کردہ ہے۔ آئین کے علاوہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو صدر کو کہے کہ آپ سیاست میں حصہ نہ لیں‘۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے مطابق پاکستان کی پارلیمان صدر، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہے اس لیے یہ بات ناقابل فہم اور ماورائے آئین ہوگی کہ پارلیمان کے کسی ایک حصے پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے۔

سابق وزیر قانون بابر اعوان نے کہا کہ اگر کسی کو صدر آصف علی زرداری پر اعتراض ہے تو وہ اگلے انتخابات کا انتظار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کے صدر کے عہدے پر منتخب ہوتے ہی ایسے کچھ لوگوں کو تکلیف شروع ہوگئی تھی جو یہ سمجتھے تھے کہ ایوان صدر جمہوریت پر حملہ کرنے کے لیے محفوظ مورچہ ہے۔

انھوں نے کہا ’اب جمہوریت مضبوط ہوئی ہے لہذا اگر کسی کو صدر زرداری پر اعتراض ہے تو وہ اگلے انتخابات کا انتظار کریں‘۔