سری لنکن ٹیم حملہ، مزید چھ ملزمان گرفتار

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والے مزید چھ ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے جدید اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ان ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا سری لنکن ٹیم پر حملے کا مقصد ٹیم کو اغواء کرنا اور پھر اس کے بدلے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنا تھا۔
<link type="page"><caption> سری لنکن ٹیم پر حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/03/090303_lahore_lanka_firing_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکیپٹل سٹی پولیس چیف یعنی سی سی پی او لاہور اسلم ترین نے بتایا کہ سری لنکن ٹیم پر ہونے والے جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا ان سے تفتیش کے دوران ملنے والی معلومات کی بنا پر اب چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کی طرف سے سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنے والے مزید ملزموں کو پکڑنے کا اعلان ایک ایسے دن کیا گیا جب سری لنکا کی ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں کامیاب ہو کر فائنل میں پہنچی ہے۔

اس حملے کی وجہ سے پاکستان دسویں کرکٹ ورلڈ کپ کا میزبان بننے سے محروم ہوگیا تھا۔
خیال رہے کہ تین مارچ دوہزار نو کو لاہور میں لبرٹی چوک میں سری لنکا کی ٹیم پر اس پر حملہ کیا گیا جب ٹیم ایک کوچ میں میچ کھیلنے کے لیے سٹیڈیم جا رہی تھی۔ اس حملے کے دوران چھ پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور اسلم ترین نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں ٹیم پر حملے کے ماسٹر مائنڈ امان اللہ کے علاوہ عبیداللہ عرف زبیر، محسن رشید، محمد جاوید انور عرف چودھری، قاری محمد اشفاق، عبدالرحمن قمر عرف زبیر شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے خودکش جیکٹ، دستی بم، کلاشنکوف اور جدید اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس نے گرفتار کیے جانے والوں ملزمان کو ان کے چہروں پر نقاب ڈال کر پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سامنے پیش کیا تاہم ان ملزموں سے بات چیت نہیں کرائی گئی۔
اسلم ترین کے مطابق دوران تفتیش ملزمان نے بتایا کہ وزیرستان میں کمانڈر عبدالحلیم محسور اور استاد مشتاق عرف اسلم یاسین کی موجودگی میں یہ طے پایا کہ سری لنکن ٹیم کو لاہور میں قذافی سٹیڈیم جاتے ہوئے اغوا کیا جائے گا اور پھر ٹیم کی رہائی کے بدلے گرفتار طالبان کمانڈرز کو رہا کروایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا ملزم امان اللہ اور محمود الحسن نے میران شاہ سے یہ اسلحہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے راستے فیصل آباد اور وہاں سے لاہور پہنچایا جبکہ ٹیم پر حملہ کرنے کے لیے لبرٹی چوک پہنچنے کے لیے ملزموں نے دو گاڑیاں اور دو آٹو رکشے بھی استعمال کیے تھے۔
لاہور پولیس کے سربراہ کے بقول ملزم سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنے والے جاوید انور نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تئیس جولائی سنہ دو ہزار نو کو گوجرہ میں عسیائی برادری کی ایک بستی پر حملہ کیا تھا۔







