اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان ایجنسی کے گرینڈ جرگے کے نمائندہ رہنماؤں نے ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر امریکیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خون کا بدلہ ضرور لیں گے۔
گرینڈ جرگے کے رہنما ملک جلال الدین ، ملک فریداللہ، ملک نیک دراز اور دیگر نے جمعہ کو پشاور پریس کلب میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ روز میران شاہ کے قریب دتہ خیل کے مقام پر پہاڑ کی ملکیت کے حوالے سے ایک جرگہ منعقد ہو رہا تھا جس پر امریکی جاسوس طیاروں نے حملہ کیا اور اس میں بےگناہ چوالیس افراد ہلاک اور سینتالیس زخمی ہوئے ہیں۔
ملک جلال الدین نے کہا کہ وہ اس کانفرنس میں وزیرستان کے تمام قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں اور یہاں وہ قبائل کی جانب سے امریکہ کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے’اپنے پیاروں کو امریکیوں پر فدائی حملے کرنے کی اجازت دے دی ہے‘۔
ہم اس واقعے کا بدلہ ضرور لیں گے۔ ہم وہی لوگ ہیں جو سو سال تک اپنے خون کا بدلہ ضرور لیتے ہیں اور اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتے۔
ملک جلال الدین
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق انھوں نے کہا ’ہم اس واقعے کا بدلہ ضرور لیں گے۔ ہم وہی لوگ ہیں جو سو سال تک اپنے خون کا بدلہ ضرور لیتے ہیں اور اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتے‘۔
قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ اب تک جتنے ڈرون حملے ہوئے ہیں ان میں بے گناہ افراد ہی ہلاک ہوئے ہیں جس کے خلاف انھوں نے احتجاج بھی کیا لیکن پاکستان کے حکمران اور عوام خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح امریکیوں نے ہمارے بچوں، ماؤں ، اور بزرگوں کو چن چن کر مارا ہے اس کا بدلہ وہ ضرور لیں گے۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف ماضی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں
ان سے جب پوچھا کہ امریکہ اور حکومت یہ کہتی آئی ہے کہ یہاں غیر ملکی موجود ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ ماضی کی بات ہے اب وہاں نہ کوئی افغان اور ناں ہی کسی اور قومیت کا کوئی غیر ملکی موجود ہے بلکہ مقامی قبائل رہائش پذیر ہیں۔ ملک جلال کے مطابق ’امریکہ خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ افغانستان کے ستر فیصد حصے پر طالبان موجود ہیں تو پھر وہ وزیرستان میں کیا کریں گے‘۔
ان سے جب کہا گیا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فوج کے سربراہ نے اس ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور امریکہ سے کہا ہے ہ وہ اس پر معافی مانگے تو انھوں نے کہا کہ ’اس سے پھر کیا ہو جائے گا صرف مذمت کرنے سے کیا فائدہ ہو گا یہ مذمت تو پہلے بھی حکمران کرتے آئے ہیں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ آرمی چیف کے بیان کے بعد کیا کرتا ہے اور پھر وہ اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔