وزیرستان: ڈرون حملے میں پانچ ہلاک

ڈرون
،تصویر کا کیپشنجہاں ڈرون حملہ ہوا ہے وہاں سابقہ سویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے کئی اہم ٹھکانے موجود ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں پانچ شدت پسند ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ بدھ کی صُبح شمالی وزرستان کے صدر مقام میران شاہ سے چالیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل کے علاقے دیگان میں ایک امریکی جاسوس طیارے نے مبینہ طور پر ایک مکان کے اندر ایک گاڑی کو نشانہ بنای۔ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی بتائے جاتے ہیں۔

سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ امریکی ڈرون طیارے سےگاڑی پر ایک اور مکان کے کمرے پر دو میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں گاڑی میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔حملے میں گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ مکان کےایک کمرے پر گرنے والے دو میزائلوں سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وہ علاقہ جہاں ڈرون حملہ ہوا ہے، افغان سرحد کے قریب ہے اور یہاں سابق سویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے کئی اہم ٹھکانوں کے علاوہ افغان طالبان کمانڈر جلاالدین حقانی کے مراکز بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ڈرون حملوں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی حکام پر امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے۔لیکن پاکستانی حکام تاحال کاروائی کے لیے تیار نظر نہیں اتے ہیں۔