شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے، تئیس افراد ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنیہ حملہ شمالی وزیرستان میں ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دو امریکی ڈرون حملوں میں تئیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ جمعرات کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام سے چالیس کلومیٹر دور دتہ خیل کے نئے اڈے کے قریب ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر پہلا میزائل ایک گاڑی پر داغا گیا ہے جس کے بعد تین مذید حملے ہوئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں تئیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ حملہ صبح ساڑھے نو بجے ہوا ہے لیکن چونکہ دتہ خیل کا علاقہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر میرانشاہ سے دور واقع ہے اور وہاں ٹیلیفون کا نظام بھی نہیں ہے اس لیے اطلاعات کی ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ آج دتہ خیل کے نئے بازار کےقریب مقامی قبائل کا پہاڑ کی ملکیت پر جرگہ تھا جس کے لیے لوگ کھلے میدان میں موجود تھے۔

لوگوں نے بتایا کہ اس دوران امریکی جاسوس طیارے نے ایک مشتبہ گاڑی کو نشانہ بنایا جو جرگے کی جانب آ رہی تھی۔ مقامی لوگوں نےکہا کہ باقی تین میزائل جرگے میں شامل افراد پر داغے گئے ہیں۔ سرکاری سطح پر اب تک اس کی تصدیق نہں ہو سکی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد بے گناہ تھے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی پایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ڈرون حملوں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی حکام پر امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے۔لیکن پاکستانی حکام تاحال کاروائی کے لیے تیار نظر نہیں اتے ہیں۔