پاکستانی فوج کی ڈورن حملوں کی مذمت

جنرل اشفاق کیانی
،تصویر کا کیپشنفوج وزیرستان کے عوام کے دکھ میں برابر کی شریک ہے

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جمعرات کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے تازہ ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ اس حملے میں تئیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں فوجی سربراہ نے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوناک ہے کہ پر امن شہریوں کے جرگے کو جس میں علاقے کے بزرگ بھی شامل تھے انتہائی لاپرواہی اور سخت دلی سے نشانہ بنایا گیا‘۔

<link type="page"><caption> شمالی وزیرستان میں ڈورن حملے، تئیس افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110317_north_waziristan_drone_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

جنرل کیانی نے کہا کہ’ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح کی پر تشدد کارروائیاں ہمیں دہشتگردی ختم کرنے کے ہمارے مقصد سےدور لے جاتی ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی حفاظت ہر حال میں اہم ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج ان لوگوں کے دکھ میں شریک ہے جن کے عزیز واقارب بے معنی حملے میں شہید ہوئے ہیں‘ اور فوج وزیرستان کے عوام کے دکھ میں برابر کی شریک ہے‘ اور وہاں موجود فوجی دستوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ کنبوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ پاکستانی فوج دہشتگردی کے خلاف لڑ رہی ہے نہ کہ قبائلی علاقوں کے اپنے ہم وطنوں کے خلاف اور یہ کہ پاکستانی فوج نے اس بات کو سختی سے اور صاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کے خلاف اس طرح کا رویہ ہر حال میں ناقابلِ قبول ہے‘۔

جمعرات کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام سے چالیس کلومیٹر دور دتہ خیل کے نئے اڈے کے قریب ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر پہلا میزائل ایک گاڑی پر داغا گیا ہے جس کے بعد تین مزید حملے ہوئے ہیں۔