ججز اغوا: تین دن کی مہلت، پھر جرگہ

پشتون قومی جرگے کے سربراہ نواب ایازجوگیزئی نے ڈیرہ مراد جمالی سے اغواء ہونے والے دوججوں کی بازیابی کے لیے حکومت کو تین دن کی مہلت دی ہے اور پانچ مارچ کوسیاسی جرگہ بلانے کااعلان کیا ہے۔
دوسری جانب واقعہ کے خلاف وکلاء نے منگل کو بھی کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پشتون قومی جرگے کے سربراہ نواب ایاز جوگیزئی نے دیگر قبائلی معتعبرین کے ہمراہ منگل کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن وامان پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے جس کے باعث پہلے تو عام لوگ تاجر اور وکلاء اغواء ہوتے تھے لیکن اب تو ججز بھی محفوظ نہیں رہے۔
انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی جان محمد گوہر اور سینیئرسول جج سبی محمد علی کاکڑ کی بازیابی کے لیے حکومت کو تین دن کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر تین میں دونوں جج بازیاب نہیں ہوئے تو پانچ مارچ کو سیاسی جماعتوں اور قبائلی معتبرین کا اجلاس طلب کرکے آئندہ کا لاحۂ عمل طے جائے گا۔
ادھر ڈسٹرکٹ اینڈ سیش جج سبی جان محمد گوہر کے بھائی خان زمان نے بی بی سی کوبتایا کہ واقعہ کے بعد ان کے اہلِ خانہ سخت پریشان ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے وکلاء نے منگل کو گیارہ بجے کے بعد عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیان نکالیں جن میں وکلاء کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔ احتجاج کرنے والے وکلاء نے حکومت سے دوججوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
ادھر جعفرآباد میں مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مغوی ججوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور کل رات بھی پولیس نےمزید مشکوک افراد گرفتار کیے ہیں۔جبکہ ضلعی پولیس آفیسر جعفرآباد جاوید غرشین کے مطابق ابھی تک پولیس کو اصل ملزمان تک رسائی نہیں ملی ہے۔
یاد رہے کہ تین روز قبل دو جج جان محمد گوہر اور محمدعلی کاکڑ سبی سے اوستہ محمد جاتے ہوئے ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغواء ہوئے تھے۔ اگرچہ پولیس نے اس واقعہ کو اغواء برائے تاوان کا واقعہ قرار دیا ہے لیکن تاحال کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







