’مغویوں کو بحفاظت رہا کروایا جائے‘

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان میں ججوں اور وکلاء کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کو حکم دیا ہے کہ تمام ایجنسیوں سے رابطہ کرکے مغویوں کو فوری طور پر بحفاظت رہا کروایا جائے۔
یہ بات انہوں نے پیر کو شام گئے قومی اسمبلی میں اپنا تحریری بیان پڑھتے ہوئے کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے والوں میں سے بعض نے یورپ میں پناہ لے لی ہے۔ ان کے بقول بلوچ شدت پسندوں کو افغانستان میں تربیت دی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی وارداتوں میں بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر شدت پسند تنظیمیں ملوث ہیں۔ انہوں نے ایک علیحدگی پسند بلوچ تنظیم کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کا نام لے کر انہیں صوبے کے حالات کی خرابی کا ذمہ دار ٹہرایا۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ پیر کو جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو حکومت اور حزب مخالف کے اراکین کی بہت کم تعداد موجود تھی۔
مسلم لیگ (ن) کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد امکان تھا کہ شاید یہ پہلا اجلاس ہنگامہ خیز ہوگا لیکن معاملہ اس کے برعکس رہا۔
انہوں نے ساتھ بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر میاں رضا ربانی سے کہا کہ وہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے جنگی بنیاد پر دوبارہ کام شروع کریں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے بلوچستان میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کیا اور بتایا کہ تاحال چھ ہزار نوجوانوں کو ملازمتیں اور تین ہزار کو انٹرنشپ دی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ انٹرنشپ کے تحت تعلیمی سند کے مطابق حکومت بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ وظیفہ فراہم کرتی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ سوئی اور کوہلو میں فوجی چھاؤنی بنانے کا منصوبہ ترک کرنے اور وہاں فوج کی جگہ فرنٹیئر کور کو تعینات کرنے کے عوامی مطالبات حکومت نے تسلیم کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ بلوچستان کی تریسٹھ سالہ محرومیوں کے مقابلے میں ان کی حکومت کے اقدامات ناکافی ہیں۔
انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو فرنٹیئر کور اور کوسٹ گارڈ میں بھرتی کرنے، چار سے پانچ ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے لیے بھیجنے سمیت مختلف مراعات دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے بلوچ نوجوانوں سے کہا کہ وہ شدت پسندوں کے ہاتھوں گمراہ نہ ہوں اور صوبے میں امن امان خراب نہ کریں۔
وزیراعظم نے بلوچ مزاحمت کاروں سے کہا کہ وہ حکومت سے بات کریں اور حکومت ان کے جائز مطالبات ماننے کو تیار ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کے بارے میں کہا کہ بے گناہ افراد کو گمشدہ جرائم پیشہ افراد کی فہرست سے علیحدہ کیا جائے۔
ان کے مطابق لاپتہ ایک سو چودہ افراد کی فہرست میں سے سڑسٹھ کا پتہ چلایا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے بلوچستان کے سیلاب زدگاں اور ڈیرہ بگٹی کے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے ایک ایک ارب روپیہ دیے ہیں۔ جبکہ رائلٹی کے مد میں دس ارب روپے رواں مالی سال میں دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں جو صوبوں کو خودمختاری دی گئی ہے اس کے ثمرات جلد انہیں ملیں گے اور یہ بلوچستان سمیت چھوٹے صوبوں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔







