بلوچستان: وکلاء کی ہڑتال

بلوچستان کی وکلاء تنظیموں نے دوججوں اور وکلاء کے اغواء کے خلاف پیر کو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عدالتوں بائیکاٹ کیا ہے۔ اس موقع پر وکلاء نے احتجاجی ریلیاں بھی نکالی ہیں جن میں حکومت سے لاپتہ ججوں اور وکلاء کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر پیر کو صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کی تالہ بند ی کر کے بائیکاٹ کیا۔
اس موقع پر کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی ضلع کچہری کے احاطے سے نکالی گئی جس میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اور جلوس حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرنے کے بعد واپس ضلع کچہری میں اختتام پذیر ہوا۔
اس سے قبل ضلع کچہر ی میں وکلاء کی مختلف تنظیموں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں وکلاء نمائندوں کی اکثریت نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ صوبہ میں ریاستی اداروں کی رٹ ناکام ہو چکی ہے شہر پر قاتلوں، اغوا کاروں اورجرائم پیشہ عناصر کی حکمرانی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان واقعات میں منتخب عوامی نمائندے بھی ملوث ہیں اور ان حالات سے نمٹنے کے لیے خواتین سمیت سول سوسائٹی ، سیاسی پارٹیوں ، عوامی نمائندوں کو صوبے میں قیام امن کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔
اجلاس سے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔
وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ ججز کا اغواء عدلیہ پر براہ راست حملہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
دوسری جانب ججوں کی بازیابی کے لیے نصیرآباد اور جعفرآباد کے اضلاع میں سرچ آپریشن جاری ہے اور اب تک درجنوں مشکوک افراد کو سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد فتح محمد خجک نے بی بی سی کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعہ میں ملوث ملزمان تک جلد پہنچ جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی جان محمد گوہر اور سینئر سول جج محمد علی کاکڑ دو روز قبل سبی سے اوستہ محمد جاتے ہوئے ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغواء ہوئے تھے۔ جبکہ چھ روز قبل کوئٹہ سے سبی جاتے ہوئے دو وکلاء سلیم اخترایڈوکیٹ اور سید محمد طاہرایڈوکیٹ اغوا ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک سکیورٹی فورسز کو ان کی بازیابی میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہیں۔







