کوئٹہ: وکلاء کے اغواء کے خلاف مظاہرہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں وکلاء کے مسلسل اغواء کے خلاف وکلاء کی بڑی تعداد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
اس موقع پر وکلاء رہنماؤں نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے حکومت سے وکلاء کے تحفظ اور مغوی وکلاء کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق سنیچر کو بلوچسان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہچری سے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جلوس کے شرکاء نے شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزر کر کوئٹہ پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر وکلاء نے اپنےلاپتہ ساتھیوں کی بازیابی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ گذشتہ سال سے لیکر اب تک صوبے کے مختلف علاقوں سے آٹھ وکلاء اغواء ہو چکے ہیں جن میں سے دو کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اُن کی حفاظت کے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایاگیا ہے۔
بلوچستان بارایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’چھ ماہ قبل خضدار سے اغواء ہونے والے وکیل منیر میروانی کو ابھی تک بازیاب نہیں جا سکا جس کے باعث وکلاء آج ایک بار پھر حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بازمحمد کاکڑ کے مطابق چار دن قبل متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے دو وکلاء سیلم اختر ایڈووکیٹ اور سید محمد طاہر ایڈووکیٹ کو کوئٹہ سے سبی جاتے ہوئے ڈھاڈر کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا جبکہ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے رکن آغا عبدالظاہر ایڈووکیٹ کو سبی سے کوئٹہ آتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغواء کیا ہے۔
اُن کے مطابق اس سلسلے میں کئی بار حکومتی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بارآور ثابت نہ ہوسکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







