’فیصلہ فوج کو کرنا ہے‘ امریکی سفیر

امریکی سفیر کیمرون منٹر
،تصویر کا کیپشنامرکی سفیر اسلام آباد میں صحافیوں کی بریفنگ کر رہے تھے

پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جلد از جلد شروع کیا جائے تاہم اس کا فیصلہ پاکستانی مسلح افواج کو کرنا ہے۔

موجودہ پاکستانی حکومت نے وفاقی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا اختیار فوجی قیادت کو سونپا ہے کہ جب وہ مناسب سمجھے شدت پسندوں کے خلاف یہ کارروائی کرے۔ جنوبی وزیرستان میں فوج کی شدت پسندوں کے خلاف پہلے ہی کارروائیاں جاری ہیں۔

جمعہ کو امریکی سفارت خانے میں امریکی سفیر نے افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے جائزے سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیر ستان میں فوجی آپریشن سے پاکستانی فوج ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہے بلکہ یہ استعداد کار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستانی فوج کی استعداد کار کو بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج نے گُزشتہ بیس ماہ کے دوران بہت سی قربانیاں دے کر بہت کچھ حاصل کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستانی عوام میں امریکہ کا اعتماد بحال ہو۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سے القاعدہ کا خاتمہ ضروری ہے اور اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد پوری دنیا کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

افغاسنتان اور خطے کے بارے میں امریکی پالسیی کے جائزے میں پاکستان میں ڈرون حملے جاری رہنے سے متعلق ایک سوال پر امریکی سفیر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان افواج سنبھال لیں گی تو وہاں امریکہ کی ذمہ داریاں تبدیل ہوجائیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ سنہ 1989 میں افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان اور پاکستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کو نہیں دہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ پائیدار تعلقات چاہتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان سول نیوکلیر معاہدے کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم چین کو نوکلیئر سپلائر گروپ کے قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔

اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کی بھی پاکستان کے ساتھ سول معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات چل رہے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس کا نفاذ ضروری ہے۔