ڈاکٹر عمران قتل ایک شخص گرفتار

عمران فاروق
،تصویر کا کیپشناکتوبر کے مہینے میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔

لندن میں پولیس نے متحدہ قومی مومنٹ کے سابق کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو جو سنہ انیس سو ننانوے میں لندن آئے تھے، اس سال سولہ ستمبر کو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

معلوم ہوا ہےکہ پولیس نے جمعرات کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دس بجے کیمڈن سے ایک شخص کو گرفتار کیا جس کی عمر چونتیس برس ہے۔ گرفتار شخص پر جس کا نام فوری طور پر ظاہر نہیں کیا گیا، اکتوبر سنہ دو ہزار نو میں لوٹ مار کا شبہہ بھی ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔

میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے شخص کو شمالی لندن کے علاقے میں تحویل میں رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کو جو متحدہ قومی مومنٹ کے سابق کنوینر اور جماعت کے رہنما الطاف حسین کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے، اس وقت چھری کے واروں کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ گھر واپس آ رہے تھے۔ ان کے سر پر بھی چوٹیں آئی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر عمران کے قتل کے سلسلے میں دو ایشیائی نژاد افراد سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں

اس قتل کے بعد، ایم کیو ایم کے رہنما رضا ہارون نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست اس لیے دی تھی کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔.