توہینِ رسالت قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ

توہین رسالت کے الزام میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے
،تصویر کا کیپشنتوہین رسالت کے الزام میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے

انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومتِ پاکستان سے توہینِ رسالت اور دوسرے امتیازی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان توہین رسالت اور تمام امتیازی قوانین کو کالعدم قرار دینے کےلیے ترامیم متعارف کرائے اور ان شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرے جو اس قانون کی آڑ میں اقلیتوں پر تشدد کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ دن قبل پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں اٹاں والی کی رہائشی آسیہ کو ننکانہ صاحب کی مقامی عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں موت اور ایک لاکھ روپے کی سزا سنائی تھی۔

توہین رسالت کے الزام میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے اور اس پر ملک میں اور بیرون ملک انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے سینیئر محقق علی دیان حسن نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں قید میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی اور توہینِ رسالت کا خوف اس وقت ختم ہو سکتا ہے جب اس امتیازی قانون کو منسوخ کیا جاتا ہے۔

علی دیان حسن کے مطابق پنجاب کی حکومت اقلیتوں کو ملنے والی دھمکیوں نے لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے اور یہ ایک امتیازی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو تعصب ایک طرف رکھ کر اقلیتوں کا تحفظ کرنا چاہیئے جو اس وقت کئی خطرات کا شکار ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے پنجاب کی صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عیسائیوں، احمدیوں اور دوسری اقلیتوں پر ہو رہے پرتشدد واقعات کی غیرجانبدار تحقیقات کرے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچائے۔

تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے وہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات دو سو پچانوے اور دو سو اٹھانوے کو منسوخ کرے۔

یاد رہے کہ کچھ دن پہلے اقلیتوں کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئےکہا حکومت توہین رسالت کے قانون کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں سےمشاورت شروع کر دی ہے۔

توہین رسالت کے قانون کے تحت پاکستان میں مقامی عدالتیں متعدد افراد کو موت کی سزا سنا چکی ہیں تاہم ابھی تک ایسی کسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔