آسیہ بی بی کو معافی کا امکان

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے سنیچر کو عیسائی خاتون آسیہ سے جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وہ آسیہ کی جانب سے معافی نامہ لے کر صدر آصف علی زرداری کے پاس جا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ جلد اس پر دستخط کر دیں گے۔
پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں اٹاں والی کی رہائشی آسیہ کو چند روز قبل ننکانہ صاحب کی مقامی عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں موت اور ایک لاکھ روپے کی سزا سنائی تھی۔
بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا کے مطابق آسیہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے لیکن پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر ضلع شیخوپورہ کی جیل میں آسیہ سے ملنے گئے اور بعد ازاں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ نے معافی کی درخواست کر دی ہے اور پاکستان کے صدر ان کی سزا معاف کر دیں گے۔
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ اس خبر کے عالمی میڈیا پر آنے کے بعد بین الاقوامی دباؤ کے سبب آسیہ سے جیل ملنے کے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی اس کیس کا جائزہ لے رہے تھے اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عدالت ایسے بے بس لوگوں کے حق میں فیصلہ دے لیکن وہ عدالت کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے۔
اس سوال پر کہ کیا صدر صاحب کی جانب سے معافی ملنے سے مذہبی تصادم کا امکان تو نہیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا کہنا تھا نہیں ایسا نہیں ہو گا کیونکہ یہ مذہب کا نہیں انسانیت کا معاملہ ہے اور اس میں مذہب کو نہیں لانا چاہتے اور قائداعظم محمد علی جناح کے دیئے گئے اصولوں کی مطابق پاکستان کو ایک روشن خیال اور ترقی پسند ملک بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلے پر کچھ نہیں کہہ سکتے، عدالت کی جانب سے دی گئی یہ سزا برقرار ہے لیکن صدر اپنے صوابدیدی اختیار کے سبب اس سزا کو معاف کر رہیں ہیں۔
اس موقع پر موت کی سزا پانے والی خاتون آسیہ نے بھی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے توہین رسالت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں اور ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اسیہ کے بقول یہ سب کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا ہے۔
توہین رسالت کے الزام میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے اور اس پر ملک میں اور بیرون ملک انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا۔ توہین رسالت کے قانون کے تحت پاکستان میں مقامی عدالتیں متعدد افراد کو موت کی سزا سنا چکی ہیں تاہم ابھی تک ایسی کسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







