کشمیر کی آزادی کے لیے احتجاجی دھرنے

احتجاجی نعرے
،تصویر کا کیپشناحتجاج میں انڈیا اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے گئے اور وال چاکنگ کی گئی

امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف نے جمعہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے انخلا کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔

’جبری ناتے توڑ دو کشمیر ہمارا چھوڑ دو‘ کے نام سے شروع کی گئی اس مہم کے پہلے مرحلے میں لائن آف کنٹرول پر احتجاجی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق یہ مہم ایک ایسے وقت پر شروع کی گئی ہے جب لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب وادی کشمیر میں گذشتہ چار ماہ سے زیادہ عرصے سے ہندوستان مخالف عوامی احتجاجی تحریک جاری ہے۔

امان اللہ خان کے دھڑے کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے حمامیوں نے جمعہ کو اس مہم کے آغاز پر جنوبی ضلع کوٹلی میں لائن آف کنڑول کے قریب سیری چتر میں دھرنا دیا۔

پولیس کے مطابق اس احتجاج میں کوئی ایک ہزار لوگ شریک ہوئے تھے جبکہ جے کے ایل ایف کا دعویٰ ہے کہ اس میں تین ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔

عینی شائدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے کتبے اور بیرز اٹھارکھے تھے جن پر ہندوستان اور پاکستان مخالف جبکہ کشمیر کی مکمل آزادی کے حق عبارتیں درج تھیں اور وہ اسی طرح کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

’کشمیر ہمارا چھوڑ دو‘
،تصویر کا کیپشناحتجاجی پوسٹر میں دکھایا گیا کہ پاکستان، چین اور انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ مہم ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے انخلا، گلگت بلتستان سمیت ریاست جموں کشمیر کے تمام حصوں کو متحد کرنے اور ریاست کی مکمل آزادی و خود مختاری کے لیے شروع کی گئی ہے۔‘

تنظیم کے مطابق اس کا مقصد لائن آف کنڑول کے دوسری جانب وادی میں جاری ہندوستان مخالف عوامی احتجاجی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام پر ہندوستان کی فوج کی مبینہ زیادتیوں کو بھی بے نقاب کرنا ہے۔

جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ اس مہم کے پہلے مرحلے پر ہی پچیس اکتوبر کو لائن آف کنڑول کے قریب واقع قصبے تیتری نوٹ میں جبکہ ستائیس اکتوبر کو لائن آف کنڑول کے نواحی قصبے چکوٹھی میں دھرنے دینے کا ارادہ ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما غلام مجتبیٰ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ک اس مہم کے لیے بائیس تا ستائیس اکتوبر کے ایام کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ بائیس اکتوبر سن انیس سو سینتالیس کا ہی دن تھا جب پاکستان کی فوج اور قبائلی جنگجو کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کشمیر کی تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین دن ہے کیوں کہ قبائلوں نے نہ صرف کشمیریوں کا قتل عام کیا اور لوٹ مار کی بلکہ یہیں سے کشمیر پر غیر ملکی قبضے کا آغاز ہوا۔‘

انہوں کہا کہ اسی حملے کے نتیجے میں اس وقت کے کشمیری ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے فوجی مدد مانگی اور ہندوستان کی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور اسی حملے نے ہندوستان کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا جواز فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ریاست جموں کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بٹ گیا اور اب تک یہی صورت حال قائم ہے۔

سن انیس سو سینتالیس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کشمیر پر پہلی جنگ ہوئی اور یکم جنوری انیس سو انچاس کو اقوام متحدہ کی مداخلت پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے اس مہم کے آغاز پر ایک تصویر جاری کی ہے جس میں علامتی طور پر ہندوستان، پاکستان اور چین کا ان کے پرچموں کے ذریعے ریاست جموں کشمیر کے حصوں پر قبضہ دکھایا گیا ہے۔

اس تصویر کے اطراف میں جے کے ایل ایف کے پرچم میں لپٹے ہوئے بہت سارے ہاتھوں کو علامتی طور پر ان جھنڈوں کو کھینچتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جے کے ایل ایف ان تینوں ممالک کی فورسز کے انخلا کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔