پختونخواہ:اغوا کی وارداتوں میں اضافہ

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں ان دنوں اغواء برائے تاوان کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، صرف خیبر پختونخواہ صوبے میں اس سال کے پہلے سات ماہ میں پونے چھ سو افراد کو اغوا کیاگیا ہے جن میں اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں مختلف قسم کےگروہ ملوث ہیں جن کےخلاف پشاور سمیت مختلف مقامات پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
ان دنوں پشاور سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان، پشاور شہر کے معروف معالج انتخاب عالم سمیت دیگر علاقوں سے وکیل، ڈاکٹر اور تاجراغوا ہیں۔
ڈاکٹر انتخاب عالم کو دو ہفتے پہلے اندرون شہر سے اس وقت اغوا کر لیاگیا تھا جب وہ رات اپنے کلینک سے گھر جا رہے تھے۔ اس واقعہ کےخلاف شہر کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اجمل خان کو سات ستمبر کو یونیورسٹی کے قریب اس وقت اغوا کر لیاگیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر آ رہے تھے۔
پولیس کے مطابق اس سال اب تک کوئی پونے چھ سو افراد کو صوبے کے مختلف مقامات سے اغوا کیاگیا ہے جن میں سے بیشتر بازیاب ہو چکے ہیں۔
پشاور شہرکے پولیس افسر لیاقت خان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں مختلف قسم کےگروہ ملوث ہیں جن کے خلاف آپریشن شروع کیےگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پہلے ہو رہی تھیں لیکن اب چونکہ دہشتگردی کے واقعات پر قابو پا لیا گیا ہے اس لیے اغوا کی خبریں نمایاں ہیں۔ان سے جب پوچھا کہ اغواء کی ان کارروائیوں کے پیچھے کن کا ہاتھ ہے تو انہوں نے کہا کہ مختلف گروہ ہیں جن میں سے دو کی نشاندہی ہوگئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات بھی ہیں جن میں طالبان کے دور کی طرح یہ روایت بھی پھیل گئی ہے جن میں روپے پیسے کی لین دین میں اغوا کیا جاتا ہے جبکہ ذاتی مقاصد کے لیے قریبی لوگ ہی اپنے لوگوں کو اغواء کر لیتے ہیں۔
سی سی پی او نے کہا کہ طالبان کے ملوث ہونے کے شواہد اگر ملیں گے تو وہ بتائیں گے اس وقت سب مکسچر بنا ہوا ہے صورتحال جب واضح ہوگی تو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے رجسٹرار سعید انور نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وائس چانسلر اجمل خان کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجمل خان کو اس سے پہلے کوئی اس طرح کی دھمکیاں تو نہیں دی گئی تھیں لیکن تمام وائس چانسلرز اور دیگر پروفیسرز اور اعلیٰ عہدیداروں کو چانسلر کی جانب سے محتاط رہنے کی تلقین ضرور کی گئی تھی۔
پشاور سے اغواء ہونے والوں میں افغانستان کے سفیر عبدالخالق فراحی کو ستمبر دو ہزار آٹھ کو اغوا کیاگیا تھا جنہیں تاحال بازیاب نہں کرایا جا سکا۔، ایرانی کونسلیٹ کے کمرشل اٹاچی حشمت اطہر زادے کو دو ہزار آٹھ کو پشاور سے اغوا کیا گیا گیا تا لیکن مئی دو ہزار دس کو ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی ایجنسیوں نے انھیں بازیاب کرا لیا تھا۔
کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر لطف اللہ کاکا خیل کو نومبر دو ہزار نو کو اغوا کر لیاگیا تھا اور پھر لگ بھگ ایک سال بعد انھیں بازیاب کر لیاگیا تھا۔اس سلسلے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انہیں تاوان دے کر بازیاب کرایاگیا ہے یا اغوا کار انہیں خود ہی چھوڑ گئے ہیں۔
اغوا برئے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات سےصوبے کے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔







