عمران فاروق کے قتل پر دس روزہ سوگ

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاورق کے قتل پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے شہر کراچی میں جمعہ کو تمام کاروباری و تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔
عمران فاروق کو جمعرات کی شام لندن کے علاقے ’ ایجوئر‘ میں ان کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔
<link type="page"><caption> ایک نظریے کی موت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/09/100917_imran_farooq_profile.shtml" platform="highweb"/></link>
لندن پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق پر حملہ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے کیا گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے ان پر چاقو سے حملہ کیا اور انہیں سر، سینے اور گردن پر زخم آئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
اس حملے کے بعد پولیس نے ان کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا انسدادِ دہشتگردی یونٹ اس قتل کی تحقیقات کر رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
ایم کیو ایم کا دس روزہ سوگ
ڈاکٹر عمران فاروق کی ہلاکت پر متحدہ قومی موومنٹ نے دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو پاکستان کے شہر کراچی میں تمام کاروباری اور تجارتی مراکز بند ہیں جب کہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سرکاری، نجی اداروں اور سکولوں میں حاضری کم ہے۔ اکثر لوگوں نے گھر میں رہنے کو ترجیح دی ہے، پیٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشن مالکان نے بھی جمعہ کو کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا ڈاکٹر عمران فاروق کے والد فاروق احمد نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ عمران کی میت کراچی لائی جائے اور یہاں ان کی تدفین ہوں، اس خواہش سے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو آگاہ کر دیا ہے۔
فاروق احمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی جانب سے انہیں ابھی تک تفتیش سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ ڈاکٹرعمران فاروق رابطہ کمیٹی کے کنوینر ہی نہیں بلکہ ان کے ابتدائی ایام کے ساتھی تھے، ان کی ہلاکت ان کے دل پر ایک کاری وار ہے اور زندگی کی آخری سانس تک یہ غم ان کے دل پر نقش رہے گا۔
الطاف حسین نے کہا کہ ڈاکٹرعمران فاروق کی ہلاکت سے وہ اپنے ابتدائی ایام کے ایک سینئر، پرعزم ، باوفا اور باحوصلہ ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں۔
ایم کیو ایم اور عمران فاروق
ڈاکٹر عمران فاروق ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے قریبی ساتھیوں اور پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے تھے۔ وہ کئی برس تک پارٹی کے کنوینر رہے۔
ایم کیو ایم اسی کے عشرے میں کراچی کے سیاسی منظر نامے میں داخل ہوئی۔ اُس وقت ملک جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کے سائے میں سیاہ ترین دور سے گزر رہا تھا۔ پارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ عام طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ تاہم اس کے مخالفین اس پر اغوا، مخالفین کو اذیتیں دینے، اورسیاسی مخالفین کو قتل کردینے جیسے الزامات عائد کرتے ہیں۔
1992 میں حکومت وقت کی جانب سے پارٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی تھی۔
ڈاکٹر عمران فاروق اسی آپریشن کے دوران الزامات سے بچنے کے لیے کئی برس تک روپوش رہنے کے بعد سنہ انیس سو ننانوے میں لندن پہنچ گئے تھے۔
لندن آنے کے بعد عمران فاروق نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے بر طانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے کیونکہ پاکستان میں اُن کے خلاف مجرمانہ الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں۔ عمران فاروق جنھوں نے طالب علمی کے زمانے میں پارٹی میں شمولیت اختیارکی، دو مرتبہ اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوچکے تھے۔
بی بی سی کے شعیب حسن نے بتایا ہے کہ کراچی میں ان کے ہلاکت کی خبر پر انتہائی غم و رنج کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے بڑے تجارتی شہر کراچی میں ایک اہم سیاسی جماعت ہے۔







