سندھ: آمری کے آثار قدیمہ زیر آب

فائل فوٹو، سندھ کے آثار قدیمہ
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر، سندھ

صوبہ سندھ میں سیلابی پانی کے ریلے سے سیہون کے قریب ہزاروں سال پرانے آمری کے آثارِ قدیمہ بھی زیر آب آ گئے ہیں۔

ضلع کے ای ڈی او ریوینیو سہیل ادیب بچانی نے بی بی سی کو بتایا کہ آمری کے آثار قدیمہ کو چاروں طرف سے پانی نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

گدو سے داخل ہونے والا پانی کا سیلابی ریلا اس وقت ضلع جامشورو میں موجود ہے، جہاں پانی کا بہاو چار لاکھ کیوسک بتایا جاتا ہے۔

ضلع جامشورو میں دریائے سندھ کے ساتھ واقع آمری تہذیب کی باقیات کو پاکستان نے قومی ورثہ قرار دیا تھا۔

آمری کے آثار قدیمہ دریائے سندھ اور آر بی او ڈی سیم نالے کے درمیان میں واقع ہے جس میں دو روز قبل پانی کی آمد شروع ہوئی اور بدھ کو پانی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ماہرِ آثار قدیمہ حاکم علی شاہ کا کہنا ہے کہ آمری وادی مہران کی تہذیب کا حصہ ہے اور یہ آثار موئن جودڑو سے بھی قدیم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اسے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سندھ کے آثار قدیمہ کے محقیق اور مصنف اشتیاق انصاری کا کہنا ہے کہ آمری میں تاریخ کا خزانہ مدفون ہے، یہاں سے ملنے والی نوادرات، شواہد اور حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آثار پانچ ہزار قدیم ہیں۔

ان کے مطابق یہاں سے کئی نوادارت مقامی لوگوں کو ملے ہیں، جو آمری کے عجائب خانہ میں رکھے گئے ہیں۔ بقول اشتیاق انصاری کہ آمری کا نقصان وادی مہران کا نقصان ہے۔

ایک دوسرے محقیق بدر ابڑو کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ پر پہاڑی تہذیب کے یہ سب سے نمایاں آثار ہیں جو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو انہیں بچانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے تھے جو بدقسمتی سے نہیں اٹھائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آر بی او ڈی سیم نالے کی تعمیر کے وقت بھی ان آثار کو نقصان پہنچا تھا حالیہ سیلابی ریلے نے باقی کسر بھی پوری کردی ہے۔

بدر ابڑو کا کہنا ہے کہ آمری سے جو برتن ملے ہیں ان کے مشاہدے سے پتہ چلاتا ہے کہ یہ’ پری انڈس کلچر سے ہیں، اور مسقتل آْبادی کا شہر تھا۔‘

دوسری جانب موئن جودڑو کے قریب دریائے سندھ میں دباؤ موجود ہے، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر یہاں سے شگاف پڑا تو ان آثاروں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔