جنوبی وزیرستان آپریشن مکمل: کمانڈر

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوج کے آپریشن کمانڈر میجر جنرل محمد نواز نے کہا ہے کہ آپریشن راہِ نجات کے نتیجے میں سارا علاقہ غیر ملکیوں اور پاکستانی طالبان سے صاف کردیاگیا ہے اور وہاں اب حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی ہے۔
راتہ کولاچی سٹیڈیم ڈیرہ اسمعیل خان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل محمد نواز نے کہا کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے اور پناہ گاہوں کو تباہ کردیا گیا ہے جبکہ کئی غیر ملکی شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں آپریشن کے احتتام کے بعد ترقیاتی سکیموں پر کام تیزی سے جاری ہے اور متاثرین کی واپسی سے پہلے پہلے تمام کام مکمل کرلیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل ایک ماہ میں مکمل ہوگا جس کے بعد متاثرین کو اپنے اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جائے گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں فوج نے جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے علاقے میں بیت اللہ گروپ کے طالبان کے خلاف آپریشن کا اغاز کیا تھا۔ شروع میں اس آپریشن کا اعلان مارچ دو ہزار نو میں کیا گیا تھا تاہم عملی طورپر کارروائیوں کا آغاز تقریباً چھ ماہ کی تاخیر کے بعد ہوا۔
اطلاعات کےمطابق اس آپریشن کے چند ہفتے بعد ہی مقامی عسکریت پسند علاقہ چھوڑ کر دوسرے مقامات پر منتقل ہوگئے تھے ۔ اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے بے گھر ہوکر ٹانک اور ڈیرہ اسمعیل خان کے پناہ گزین کمیپوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔
ادھر دوسری طرف طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجو حکومت کے خلاف نیا محاذ کھولنے کےلیے جنوبی وزیرستان پہنچ چکے ہیں۔ تاہم مقامی طورپر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
چند دن قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے بدر میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں فوج کے ایک کیپٹن سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







