دو عہدے: حکومتی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ نے وفاقی حکومت کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ صدر آصف زرداری کے دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواستوں کی باقاعدہ شنوائی سے پہلے ان کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے۔
عدالت کے اس فیصلے پر وفاقی حکومت کے وکیل طالب ایچ رضوی نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور وہ دیگر وکلا کے ہمراہ کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔
لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کے وکیل کی طرف سے ناراض ہوکر کمرہ عدالت سے باہر جانے کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں تاکہ وہ عدالت میں پیش ہو کر درخواستوں پر وفاقی حکومت کی طرف سے دلائل دیں۔
درخواست پر اب مزید کارروائی کی تاریخ سات جولائی ہے۔
صدرآصف زرداری کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے بارے میں ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستیں مقامی وکلا اے کے ڈوگر اور آصف محمود خان نے دائر کر رکھی ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ ان درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔
پیر کے روز پانچ دنوں کے وفقے کے بعد ہائی کورٹ کے فل بنچ نے درخواستوں پر سماعت شروع کی تو وفاقی حکومت کے وکیل طالب حیدر رضوی نے اپنی متفرق درخواست کا حوالہ دیا اور کہا کہ پہلے ان کی اس درخواست پر سماعت کی جائے جس میں صدر آصف علی زرداری کے دو عہدوں کے خلاف درخواستوں کے بارے میں آئینی اعتراضات اٹھائے گئے کیونکہ بقول ان کے یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔
صدر مملکت کے وکیل ایس ایم مسعود نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئی ہیں وہ اس لیے قابل سماعت نہیں ہیں کہ درخواست گزاروں کو یہ درخواستیں دائر کرنے کا کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ متاثر فریق نہیں ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق کا کہنا ہے کہ پانچ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز احمد چودھری نے وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کردی جس پر طالب رضوی نے کہا کہ انہیں ان کے موکل کی طرف سے یہ ہدایات ہیں کہ اگر عدلت ان کا موقف نہیں سنتی تو وہ مقدمے کی پیروی سے دستبردار ہوجائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائی کورٹ کے فل بنچ نے درخواست گزار وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست پر دلائل دیں جس پر طالب حیدر رضوی اور صدر پاکستان کے وکیل ایس ایم مسعود سمیت پینل کے دیگر وکلا کمرہ عدالت سے باہر چلےگئے۔
ادھر اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین کے تحت صدر پاکستان ایک ہی وقت میں دو عہدے نہیں رکھ سکتے اور صدر آصف علی زرداری کو چاہیے تھا کہ جس دن انہوں نے صد مملکت کا عہدہ سنبھالا تھا اسی روز ان کو سیاسی جماعت کا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تھا۔
اے کے ڈوگر نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اگر کوئی شخص صدر پاکستان ہوتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کا عہدہ رکھے تو وہ صدر مملکت نہیں رہتا۔
دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے احکامات جاری کیے گئے جس میں کہا گیا کہ فل بنچ نے طالب رضوی سے کہا کہ عدالت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس وقت درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فریقین کے وکلا کے تفضیلی دلائل سنے چونکہ اصل مقدمے پر سماعت مکمل ہونے والی ہے۔
عدالت نے طالب رضوی سے کہا کہ ان کی درخواستیں اب زیر سماعت ہیں اور جب مقدمات پر فیصلہ کیا جائے گا اس وقت انہوں نے جو جو اعتراضات اٹھائے ہیں ان پر بھی غور ہوگا۔ اس پر طالب رضوی ناراض ہوگئے اور وکالت نامہ واپس لینے کے بعد دیگر وکلا کے ہمراہ عدالت سے چلے گئے۔
فل بنچ نے اپنے جاری کردہ فیصلے میں قرار دیا کہ درخواستوں میں آئین کے آرٹیکل اکتالیس کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے اور عدالت ان سوالات کی تشریح کرنے کی پابند ہے۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ مدعاعلہیان کے وکیل خفا ہوکر کمرہ عدالت سے چلے گئے ہیں اس لیے اٹارنی جنرل کو ازسر نو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں تاکہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے ان درخواستوں پر دلائل دیں ۔







