پاک ایران گیس منصوبہ،ضمانتی دستاویز تیار
پاکستان اور ایران نے اسلام آباد میں گیس پائپ لائن منصوبے کی بارے میں ضمانتی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ چار سال میں مکمل ہوگا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو توانائی کی قلت دور کرنے میں مدد ملے گی۔
جمعہ کی رات دستاویز پر پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے جوائنٹ سیکرٹری ارشاد کلیمی اور ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کسائی زادہ نے دستخط کیے۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم قدرتی وسائل نوید قمر اور سیکرٹری پیٹرولیم کامران لاشاری بھی اس تقریب میں موجود تھے۔
نوید قمر نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاہدے کو پاکستان میں توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس دستاویز پر دستخط کے بعد پاکستان نے اس منصوبے کے تمام لوازمات پورے کر دیے ہیں اور یہ کہ اب ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے بورڈ کو منظوری دینی ہے اور اس میں ایک سے ڈیڑھ ہفتہ لگے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پاکستان اپنے علاقے میں اس منصوبے پر تیزی سے کام شروع کر دے گا۔
اس گیس پائپ لائن کی کل لمبائی انیس سو چونتیس کلومیٹر ہے جس میں گیارہ سو پچاس کلومیٹر ایرانی علاقے میں جبکہ قریباً آٹھ سو کلومیٹر پاکستانی علاقے میں بچھائی جائے گی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے پائپ بچھانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اب تک نو سو کلومیٹر پائپ لائن بچھا دی گئی ہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں اس منصوبے پر جلد کام شروع کر دیں گے۔ پاکستان اپنے علاقے میں اس منصوبے پر ایک ارب پینسٹھ کروڑ ڈالر خرچ کرے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ دسمبر دو ہزار چودہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے ساؤتھ فارس گیس فیلڈ سے یومیہ پچھہتر کروڑ کیوبک فٹ گیس پاکستان کو فراہم کی جائے گی اور اسے ایک ارب کیوبک فٹ تک بڑھانے کی گنجائش رکھی جائے گی۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو پچیس سال تک گیس فراہم کی جائے گی اور اس عرصے میں مزید پانچ برس کا اضافہ ہو سکے گا۔ ابتداء میں اس منصوبے کے تحت گیس پائپ لائن کو بھارت تک جانا تھا مگر بھارت بظاہرگیس کی قیمت اور ٹرانزٹ فیس پر تنازع کی وجہ سے اس منصوبے سے علیحدہ ہوگیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی وزرات برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل کے جوائنٹ سیکرٹری ارشاد کلیمی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اور چین نے مستقبل میں کسی مرحلے پر اس منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔







