’ضمنی انتخاب کے نتائج ماننے سے انکار‘
پاکستان جمہوری پارٹی کے رہنما نوابزادہ افتخار احمد خان نے جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

انہوں نے اپنے مدمقابل پیپلز پارٹی کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نوابزادہ افتخار احمد خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جمشید دستی کی اہلیت کے خلاف پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور اس ضمن میں جو درخواست دائر کی جائے گی اس میں نومنتخب رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔
خیال رہے کہ مظفر گڑھ سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو اٹھتر میں سینچر کے روز ضمنی انتخابات ہوئے اور غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے جمشید دستی دوبارہ رکن اسمبلی بن گئے جبکہ ان کے مدمقابل نوابزادہ افتخار احمد خان دوسرے نمبر پر آئے۔افتخار احمد خان بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کے بیٹے ہیں۔
نوابزادہ افتخار احمد خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان امیدواروں کو ضمنی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تھا جن کی تعلیمی اسناد جعلی تھیں جب کہ قائم مقام چیف الیکشن کمیشنر نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جعلی تعلیمی اسناد والے امیدوار ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
ان کے بقول لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے جمشید دستی کی اہلیت کے بارے میں اس وقت فیصلہ دیا جب سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمشید کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ میں پیر کو درخواست دائر کریں گے اور عدالت سے استدعا کی جائے کہ جمشید دستی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا جائے اور نہ ہی ان کو اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کی اجازت دی جائے۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ نوابزادہ افتخار کے بقول سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی جائے جس میں جمشید دستی کو نااہل قرار دینے کے ساتھ یہ بھی استدعا کی جائے کہ انہیں جمشید دستی کی جگہ نومنتخب رکن اسمبلی قرار دیا جائے۔
دوسری جانب فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے بھی مظفر گڑھ کے حلقہ ایک سو اٹھتر میں ضمنی چناؤ کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ ضمنی انتخاب کے موقع پر تنظیم کی جانب سے مامور مصبرین نے بعض پولنگ سٹیشنوں پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ میں کہاگیا کہ پچیس فیصد پولنگ سٹیشنوں پر بیلٹ پیرز کو کاونٹر فائلز کے بغیر جاری کرنے سے انتخابی عمل پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سات پولنگ سٹیشنوں پر قومی شاختی کارڈر کے نمبروں میں بھی تضاد پایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک پولنگ سٹیشن پر ایسے افراد کو تحویل میں لیا گیا جو جعلی ووٹ ڈال رہے تھے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پولنگ سٹیشن کے اندر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد ضرورت سے زیادہ تھی جب کہ غیر متعلقہ اسحلہ بردار افراد بھی پولنگ سٹیشن کے اندار موجود رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ضمنی انتخاب میں حلقہ این اے ایک سو اٹھتر میں ٹرن آوٹ ماضی کے مقابلے میں خاصا کم رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ضمنی انتخاب میں ٹرن آوٹ مجموعی طور پر چونتیس فیصد کے قریب رہا اس میں مردوں کی شرح بتیس فیصد اور خواتین کی چوبیس فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق ضمنی چناؤ کی مہم کے دوران وزیر اعظم نے ایک امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ لیا جو انتخابی قوانین کی صریحاً خلاف وزری ہے جبکہ پولنگ کے روز بھی امیدواروں کی طرف سے پولنگ سٹیشنوں کے باہر انتخابی مہم جاری رہی جس کی انتخابی قوانین اجازت نہیں دیتے ۔
خیال رہے کہ جمشید دستی عام انتخابات میں رکن اسمبلی منتحب ہوئے ہیں وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین تھے تاہم جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔







