پاکستان : ہندو دلت کو تمغہِ امتیاز

    • مصنف, حفیظ چاچڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ڈاکٹر سونو کھنگھرانی کا تعلق سندھ کے ضلعے تھرپارکر سے ہے یومِ پاکستان کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے نچلی ذات کے ایک ہندو کو سماجی شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں تمغہِ امتیاز سے نوازا ہے۔

سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے کراچی میں منقعدہ تقریب میں صدر آصف زرداری کی طرف سے ایک غیر سرکاری تنظیم اوتھردیپ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سونو کھنگھرانی کو ایوارڈ دیا۔

انہیں سماجی خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے اور ان کی این جی او پچھلے کئی سالوں سے سندھ میں صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔

ایوارڈ لینے کے بعد انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طبقے سے کسی پہلے شخص کو سرکاری ایوارڈ ملا ہے اور انہیں کافی خوشی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کم از کم اس حکومت نے سماجی شعبے میں ان کے کام کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ہو اور اس کا کسی بھی طبقے سے تعلق ہو، اگر ایمانداری کے ساتھ محنت کرے گا تو ایک دن ضرور پذیرائی ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سماجی شعبے میں سرکاری ایوارڈ ملنے کے بعد انہوں ہمت ملی ہے اور وہ سندھ کے علاوہ پورے پاکستان میں کام کرنا چاہیں گے۔ ڈاکٹر سونو کھنگھرانی کا تعلق سندھ کے ضلعے تھرپارکر سے ہے اور انیس سو چون میں ان کی گاؤں سڑ جونیجا میں ایک غریب دلِت خاندان میں پیدائش ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام کوٹ کے نزدیک چُنڑا گاؤں میں حاصل کی۔

انیس سو چوہتر میں جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اس وقت تھرپارکر میں شدید قحط پڑا اور غریب خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے وہ کالج میں داخلہ نہیں لے سکے۔ انیس سو پچہتر میں انہوں نے ایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی حیدرآباد کے نزدیک ٹنڈوجام زرعی کالج میں داخلہ لے لیا۔

ڈاکٹر سونو کھنگھرانی نے زرعی یونیورسٹی سے ویٹنری سائنس میں ڈگری لی اور ان کی پڑھائی کے لیے یونیورسٹی نے انہیں وضیفہ دیا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں زرعی یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری ملی لیکن چھ سال بعد انہوں نے نوکری چھوڑ کر این جی او کے سیکٹر میں قدم رکھا۔

انہوں نے کئی ممالک کے دؤرے کیے ہیں اور وہ نچلی ذات کے ہندؤں کی تنظیم انٹرنیشنل دلِت سولیڈرٹی نیٹ ورک کے ممبر بھی ہیں۔