پاڑہ چنار جانے والے قافلے پر خود کش حملہ

فائل فوٹو
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں کُرم جانے والے ایک قافلے پر خودکش حملہ ہوا ہے جس میں چارخواتین سمیت بارہ افراد ہلاک جبکہ پچیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس آفسر اسلام الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو ہنگو کی تحصیل ٹل میں اس وقت عام شہریوں کے ایک قافلے میں شامل ایک مسافر گاڑی کے قریب خودکش حملہ آور نے خود کواُڑادیا جب ان کو سکیورٹی فورسز کے نگرانی ٹل سے کُرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چنار لے جارہے تھے۔انہوں کہا کہ حملے میں چار خواتین سمیت بارہ افراد ہلاک جبکہ تیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔جن کو سول ہسپتال ٹل منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قافلہ میں شامل عام شہریوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے جن پر حملے کی خوف سے انھیں سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں ٹل سے پاڑہ چنارہ لے جایا جا رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ قافلے میں ایک سو چالیس گاڑیاں تھی جن میں مُسافروں کے علاوہ خورد نوش اور دوسرا سامان لدھا ہوا تھا۔اہلکار کے مطابق دھماکے میں تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد قافلہ رُک گیا۔ سکیورٹی فورسز نے مذید حملوں سے بچنے کے لیے تمام راستوں کو بند کیا ہے اور کسی کو متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

یادرہے کہ قبائلی علاقے کُرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں آباد شیعہ مسلک کے لوگوں پر گّزشتہ کئی سالوں سے سُنی مسلک کے علاقے میں جانے والے راستے بند ہیں اور شیعہ مسلک کے لوگ پاڑہ چنارہ سے پہلے افغانستان اور بعد میں تورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔اب حکومت نے ضرورت کے سامان کو سکیورٹی فورسز کے نگرانی میں پاڑہ چنار پہنچانے کا فیصلہ کیا تھا۔