کراچی: ’بلیک ٹاؤن‘ کے مٹتے آثار

کراچی
،تصویر کا کیپشنعاشورہ کے ماتمی جلوس میں بم دھماکے کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی نے شہر کے قدیم علاقے کے اس حصے کا حلیہ ہی تبدیل کردیا ہے۔
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بندر روڈ پر پتھر سے بنی اُن خوبصورت عمارتوں میں سے کچھ جو اس شہر کی تاریخی شان و شوکت کی گواہی دیتی تھیں، ستائیس دسمبر 2009 کی شام کے بعد سیاہ چہرے لیے آنے جانے والوں کو بے بسی سے دیکھ رہی ہیں۔

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر ستائیس دسمبر کو عاشورہ کے ماتمی جلوس میں بم دھماکے کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی نے شہر کے قدیم علاقے کے اس حصے کا حلیہ ہی تبدیل کردیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت سے لے کر ٹاور تک کی سڑک جو کبھی بندر روڈ کہلاتی تھی اور جسے بعد میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے نام سے منسوب کیا گیا ایسی کئی عمارتیں تھیں جنہیں وقت کی دیمک تو کھوکھلا نہیں کرسکی لیکن تخریب کاری سے نہ بچ سکیں۔

بزرگ دکاندار محمد عمر بیتے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں ہندو تاجروں کی دکانیں تھیں پاکستان کے قیام کے بعد ان سے یہ دکانیں مسلمانوں نے لیں اور اکثریت میں وہ لوگ تھے جو انڈیا سے یہاں آئے تھے۔

شہر کی اس مصروف ترین سڑک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہاں ٹرامیں چلتیں تھیں اور زندگی انتہائی پرسکون گزرتی تھی۔

ایک اور بزرگ دکاندار مقیم الدین کی جناح کیپ کے نام سے قراقلی ٹوپیوں کی دکان تھی، جو مکمل طور پر جل گئی ہے، اس عمارت کو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے منہدم کرنے کی تجویز دی ہے۔

یاسمین لاری
،تصویر کا کیپشنیاسمین لاری ماہرِ تعمیرات ہیں اور کراچی کی قدیم عمارتوں اور ان کے فنِ تعمیر سے گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔

پولیس اور تاجروں کا کہنا ہے کہ ان تاریخی عمارتوں کو نذر آتش کرنے کے لیے تیزاب استعمال کیا گیا تھا جس سے ان عمارتوں کے خوبصورت چہرے جھلس گئے اور جلد سے جلد دکانوں کی مرمت کرکے کاروبار شروع کرنے کی کوششوں نے ان کی رہی سہی شکل بھی بگاڑ دی۔

کراچی کی قدیم عمارتوں اور ان کے فنِ تعمیر سے گہری دلچسپی رکھنے والی ماہرِ تعمیرات یاسمین لاری کا کہنا ہے کہ ڈیسنو ہال کے پورے بلاک میں بارہ عمارتیں ہیں جو تاریخی اہمیت کی حامل ہیں ان میں سے پانچ کو قومی ورثہ بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

ان کے مطابق انگریز اس علاقے کو نیٹیو ٹاؤن یا بلیک ٹاؤن کہتے تھے، اٹھارہ سو تینتالس میں بندر روڈ بنایا گیا تو اس کے بعد قدیم شہر بڑھنا شروع ہوا اور اس علاقے کا نام مارکیٹ کوارٹر رکھا گیا۔

یاسمین لاری کا کہنا ہے کہ ’اس علاقے میں جو عمارتیں ہیں وہ شہر کی سب سے قدیم عمارتیں ہیں ان کی اپنی ایک شناخت ہے، اگر یہ انگریز دور حکومت کی بھی ہیں تو کیا ہوا تعمیر تو یہاں کے لوگوں نے کی ہیں‘۔

کراچی کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم غیر سرکاری ادارے ہیریٹج فاؤنڈیشن نے آتش زنی سے متاثرہ عمارتوں کی عجلت میں مرمت اور انہدام پر متعلقہ اداروں کے پاس اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جس کے بعد اس علاقے کے سروے کا فیصلہ کیا گیا۔

کراچی
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اور عمارتوں کو نذرِ آتش کرنا شروع کر دیا گیا۔

سروے ٹیم میں شامل پاکستان انجنئرنگ کونسل کے نجیب ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ علاقے میں تاجر تنظیمیں، عمارتوں کے مالکان اور شہری ادارے موجود ہیں جن میں کوئی ربط نہیں ہے مگر سب کا اس بات پر اتفاق ہیں کہ اس کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے حالانکہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ایسی عمارتیں تھیں جو قابل مرمت تھیں۔

نجیب ہارون کے مطابق انہوں نے کچھ تجاویز دی تھیں مثلا عمارتوں کا جو فریم ہے اسے بچایا جائے یا جو عمارتیں گری ہیں انہیں انہی کی بنیاد استعمال کرکے تعمیر کیا جائے۔ ’ایسے معاملات میں لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مفادات سامنے آ جاتے ہیں اور قانون اور اداروں کو درمیان میں آجانا چاہیے‘۔

یاسمین لاری کے مطابق کسی بھی شہر کی پرانی عمارتیں اس کا اثاثہ ہوتی ہیں ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر کیا تھا یہاں کیسے ترقی ہوئی اور کون سے کمیونٹی تھی جس نے اس میں حصہ لیا۔ ’شہر کا انچ انچ قیمتی ہے اگر یہاں پلازہ بنائیں گے تو ظاہر ہے زیادہ پیسے بنیں گے مگر سوال یہ ہے کہ کتنا پیسہ بنائیں گے شہر کو بھی تو بچانا ہے آئندہ نسلوں کے لیے بھی کچھ بچاکر رکھنا ہے‘۔