کراچی: ملا عمر کا شہر

ملّا عمر
،تصویر کا کیپشنواشنگٹن کے اخبار میں خبر چھپی ہے کہ ملا عمر کراچی میں ہے۔
    • مصنف, محمد حنیف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

میں کراچی کے بارے میں آپ کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں ایک اطالوی صحافی نے فون پر مجھے کہا۔

خدا کراچی پر اپنا رحم کرے میں نے سوچا۔ کسی بھی شہر میں یورپی صحافیوں کی آمد کا مطلب ہوتا ہے کہ یا تو حادثہ ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔

صحافی آیا تو میں نے کہا آخر کراچی کے بارے میں کیا دیکھنا چاہتے ہو یہاں تو سب اچھا یا جتنا اچھا اتنے بڑے شہر میں ہو سکتا ہے۔ اس نے شرماتے ہوئے کہا واشنگٹن کے اخبار میں خبر چھپی ہے کہ ملا عمر کراچی میں ہے۔ ویسے تو مجھے پتہ ہے کہ وہ اخبار بھی بکواس ہے اور خبر بھی مشکوک لیکن مجھے کراچی آنے کا شوق تھا۔ اس لیے میں نے اپنے ایڈیٹر کو یہ خبر دکھائی اس نے مجھے یہاں بھیج دیا۔

میں نے کہا مجھ سے آپ کیا چاہتے ہیں۔ملا عمر کے گھر کا پتہ؟

اس نے ہنس کے کہا کہ نہیں میں اس شہر کو سمجھنا چاہتا ہوں ملا عمر تو ایک بہانہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کراچی ایک ساحلی شہر ہے لیکن یہاں کے رہنے والوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں یہ علم بھی ہے کہ سمندر ان کا ہمسایہ ہے۔ ہم نے ساحلی شہروں کے مزاج اور معیشت پر بات کی میں نے کہا کراچی والوں کی سمندر سے بے رغبتی کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہاں کے زیادہ تر باسی یا تو میدانی علاقوں سے آئے ہیں یا پہاڑوں سے۔ اس لیے انہیں سمندر کے اتار چڑھاؤ سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں۔ انکی روزی روٹی کا دارومدار بھی سمندر پر نہیں۔ اس لیے وہ صرف عید یا شب برات پر سمندر جاتے ہیں۔ ساحل پر بیٹھ کر بریانی کھاتے ہیں اور ہڈیاں سمندر میں پھینک کر واپس آ جاتے ہیں۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مچھیروں کی بستی ابراہیم حیدری گوٹھ جائے جہاں لوگ سمندر کے بارے میں گیت بھی گاتے ہیں اور اسے اپنا ماں باپ بھی مانتے ہیں۔

تمہیں کراچی کیوں پسند ہے اس نے پوچھا۔

میں نے کہا میں گاؤں میں پیدا ہوا تھا لیکن اب کراچی کو اپنا گھر کہتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے باقی بڑے بڑے گاؤں ہیں یا قصبات۔ کراچی میں رہنے کے لیے آپ کو کسی کنبے قبیلے سے تعلق رکھنا ضروری نہیں۔ کوئی آپ کی ذات برادری کی پرواہ نہیں کرتا مجھے پارسی کالونی اچھی لگتی ہے، میمن عورتوں کے برقعے اچھے لگتے ہیں، شور شرابا سب اچھا لگتا ہے۔ چلتی ہوئی بس میں سوار ہونے لگیں تو کوئی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کھینچ لیتا ہے لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ یہاں مکمل طور پر گمنام ہوکر یہاں رہ سکتے ہیں۔

ملا عمر
،تصویر کا کیپشنذرائع ابلاغ کے پاس ملا عمر کی محض دو تین غیر واضح تصاویر ہیں

تو اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ ملا عمر بھی یہاں رہ سکتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں لالچی صحافیوں والی چمک عود کر آئی۔

نہیں، میں نے چڑ کر کہا۔ وہ ایک گنوار دیہاتی ہے جس نے کابل اور قندھار سے باہر کی دنیا نہیں دیکھی وہ تو کبھی کورنگی لانڈھی جانے والی بسوں کے کنڈکٹروں کی بولی ہی نہیں سمجھ پائے گا۔

ابھی تو تم کہ رہے تھے تم بھی گاؤں سے آئے تھے۔

میں بہت پہلے آیا تھا۔ میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔

میں کہانی تو کراچی کے بارے میں ہی لکھوں گا لیکن ظاہر ہے ہیڈلائن میں تو مجھے اسے ملا عمر کا شہر ہی لکھنا پڑے گا ورنہ اطالوی قارئین کو سمجھ نہیں آئے گا۔

میں نے اسکی صحافتی مجبوری تسلیم کی اور اسے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا رستہ سمجھاتے ہوئے کہا کہ وہاں بہت سے نوجوان بھیس بدل کر ڈرامے کرتے ہیں ہوسکتا ہے ملا عمر ان کی نئی پروڈکشن اوتھیلو کی کاسٹ میں شامل ہو گیا ہو۔

اس نے کہا کراچی میں اوتھیلو ہوتا ہے؟

میں نے کہا یہ بڑا شہر ہے یہاں بہت کچھ ہوتا ہے۔