ڈاکٹروں کی غفلت،ہلاکت پر عدالتی کارروائی

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف نے لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے تین سالہ بچی کی ہلاکت کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس پر کارروائی کے لیے اپنی سربراہی میں بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
دوسری جانب مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ نے نجی ہسپتال کے جنرل مینجر ضیاء الحسن بخاری اور ڈاکٹر ثناء اللہ کی ضمانت پر رہائی کے لیے دائر درخواست کی سماعت متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش نہ ہونے پر ملتوی کردی ہے ۔
ازخود نوٹس پر کارروائی کے لیے بنائے گئے بینچ کے دوسرے جج ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ہیں اور یہ بینچ سترہ دسمبر کو سماعت شروع کرے گا۔ یہ بینچ بچی کی ہلاکت پر ازخود نوٹس پر کارروائی کے علاوہ نجی ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت بھی کرے گا جس میں حکومت کی جانب سے ہسپتال کو سیل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تین سالہ ایمانے ملک اپنے والدین کے ہمراہ عید منانے کے لیے لندن سے پاکستان آئی تھی جہاں اس کا ہاتھ زخمی ہونے پر اسے انتیس نومبر کو مقامی نجی ہسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹر نے بچی کو انجکشن لگایا تھا جس کے بعد بچی ہلاک ہوگئی تھی۔
اس واقعہ کے خلاف تھانہ جوہر ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا تاہم کم سن بچی کے والد عقیل ملک نے پولیس کو درج مقدمہ میں قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست دی جس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ بچی کی ہلاکت پر احتجاج بھی کیا گیا اور شہر کی مصروف مقامات پر بچی کی ہلاکت کے حوالے سے بل بورڈ بھی لگائےگئے۔
اس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایمانے ملک کی ہلاکت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کی چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی سربمہر رپورٹ میں ہائی کورٹ میں پیش کردی ہے۔
وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور پولیس نے وزیراعلٰی پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر ہسپتال کے جنرل مینجر ضیاء الحسن بخاری اور ڈاکٹر نثاء اللہ کو چھ دسمبر کوگرفتار کرنے کے بعد مقامی عدالت سے ان کا ریمانڈ لیا تھا۔ ہسپتال میں بچی کو انجکشن لگانے والا ڈاکٹر ابھی تک روپوش ہے اور اس کے بارے عقیل ملک کے وکیل اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر ناتجربہ کار تھا اور اس معاملے ہسپتال کی انتظامیہ بھی ملوث ہے اور ملزم کو تحفظ دے رہی ہے۔
ادھر ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے ڈاکٹر فائزہ اصغر سمیت ہسپتال کے چار ڈائریکٹروں نے ضمانت کے لیے مقامی عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹر فائزہ اصغر نے ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا اور درخواست میں خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی طرف سے ان کے ہسپتال کو سیل کر دیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہسپتال کو سیل کرنے کی ممکنہ کارروائی پر عمل درآمد روکتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







