سرحد دہشت گردی: اخراجات سبھی کے

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان محاصل کی تقسیم کے ایک کثیر البنیاد فارمولے پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ صوبہ سرحد میں جاری دہشت گردی کی جنگ کے تمام تر اخراجات وفاق اور دیگر صوبے برداشت کریں گے۔
اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ صوبہ بلوچستان کو ملنے والی رقم تراسی ارب روپے سالانہ سے کم نہیں کی جاسکے گی جبکہ سندھ کو چھ ارب روپے کے اضافی خصوصی فنڈز ملیں گے۔
چاروں صوبوں اور وفاق کے درمیان ہونے والے اس اتفاق رائے کا اعلان لاہور میں کیا گیا جہاں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزرائے خزانہ اور وفاقی وزیر خزانہ نے تین روز تک اجلاس میں شرکت کی۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے اس اتفاق رائے کو ایک خوشخبری قرار دیا۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ صوبوں کے لیے وفاق کا حصہ باون فیصد سے بڑھا دیا ہے۔ ’پہلے سال یہ چھپن فیصد ہوگا اور بعد میں یہ ساڑھے ستاون فیصد ہوجائے گا۔ وفاق اب سروسز پر سیلز ٹیکس نہیں لے گا بلکہ صوبے اپنی مرضی سے یہ وصول کرسکیں گے۔‘
وفاق سے ملنے والے محاصل کی صوبوں نے آپس میں تقسیم کے ایک نئے فارمولے پر اتفاق کیا ہے جس میں آبادی کے علاوہ غربت، پسماندگی اور آمدن کو بھی معیار بنایا جائے گا۔ نئے فارمولے کے مطابق آبادی کی بنیاد پر بیاسی فیصد، پسماندگی کی بنیاد پر تقریباً دس فیصد آمدن کی بنیاد پر پانچ فیصد تک دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ منفی افزائش اور بکھری ہوئی آبادی کے بنیاد پر دو عشاریہ سات فیصد حصہ دیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس فارمولے تک پہنچنے پر ویسے تو چاروں صوبوں نے کردار ادا کیا ہے لیکن وہ لچکدار رویہ دکھانے پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خصوصی طور پر شکر گذار ہیں۔
انہوں نے کہا بتایا کہ اس نئے فارمولے کے بعد اب وفاقی محاصل میں سے پنجاب کو تقریباً باون فیصد، سندھ کو ساڑھے چوبیس فیصد، صوبہ سرحد کو ساڑھے چودہ فیصد اور بلوچستان کو نو فیصد حصہ ملے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ نےبتایا کہ اس بات کا خیال رکھا گیا کہ وفاق کی آمدن میں کمی کی صورت میں بھی بلوچستان کے حصہ میں آنے والے تراسی ارب روپے میں کمی نہیں کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ سرحد میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والی جنگ کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی جبکہ صوبے وفاقی محاصل سے ملنے والی رقم سے ایک فیصد بھی دیں گے۔
تیرہ برس بعد ہونے والے اس اتفاق رائے کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جمہوری دور کا ایک تحفہ قراردیا ہے اور کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد عوام کے لیے یہ دوسری بڑی خوش خبری ہے۔ دیگر تینوں صوبوں کےوزرائے اعلیٰ نے بھی اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے سلسلے میں معاہدہ یہ تھا کہ رقبے کے علاوہ پسماندگی اور غربت کو بھی دیکھا جائے گا۔ اور اگر ان کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ ایوارڈ بلوچستان عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں ہے۔
پاکستان میں قومی محاصل کی تقسیم متنازعہ رہی ہے اور آخری قومی مالیاتی ایوارڈ سنہ انیس سو ستانوے میں عمل میں آیا تھا جس کے بعد سے مرکز اور صوبے کسی نئے فارمولے پر اتفاق نہیں کرسکے تھے۔ حالیہ این ایف سی ایوارڈ کے لیے مرکز اور چاروں صوبوں میں پانچ اجلاس ہوچکے تھے یہ چھٹا اجلاس تھا جو تین روز تک لاہور میں جاری رہا۔
اس نئے این ایف سی ایوارڈ پر دستخط کے لیے ایک الگ سے تقریب کی جائے گی جس کے بعد اسے رسمی منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔







