کراچی، سپاہ صحابہ کے دو رہنما قتل

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے شہر کراچی میں مسلح افراد کے حملے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دو رہنما ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے لیکن حالات معول پر ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب تین ہٹی کے مقام پر موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے جماعت اہلسنت و جماعت کے صوبائی جنرل سیکریٹری انجینئر الیاس زبیر خان اور سیکرٹری اطلاعات قاری شفیق پر فائرنگ کی، جس میں الیاس زبیر موقع پر ہی ہلاک اور قاری شفیق زخمی ہوگئے تھے۔
جمشید ٹاؤن پولیس کے مطابق قاری شفیق سنیچر کی صبح زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے ہیں۔ انہیں چار اور انجینئر الیاس کو تین گولیاں لگیں تھیں۔ واقعہ کی آخری اطلاعات تک ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی تھی۔
الیاس زبیر خان جماعت اہلسنت و الجماعت کے سرگرم رہنما تھے انہیں متعدد بار ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جبکہ قاری شفیق الرحمان تین ہٹی پر واقع نوری مسجد میں پیش امام تھے۔
واقعے کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی تھی اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سنیچر کی دوپہر کو ناگن چورنگی پر دونوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔
جماعت اہلسنت و جماعت کے رہنما مولانا ندیم حیدری کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے اور اس میں وہ لوگ ملوث ہیں جن سے ان کا اختلاف اور جھگڑا ہے۔ وہ دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں حکومت اور پولیس دونوں اس سے آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے دو ماہ میں ان کے دس سے زائد کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیمی سرگرمیاں کراچی میں محدود پیمانے پر ہیں۔ در اصل ان کا تبلیغی مشن ہے جس پر وہ چل رہے ہیں اور وہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں سپاہ صحابہ پر پابندی کے بعد ایک دھڑے نے جماعت اہلسنت و جماعت قائم کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







