بندیا کی پریشانی، خواجہ سراؤں کا اندراج

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’ہمارا کوئی خواجہ سرا رجسٹریشن سے رہ نہ جائے۔‘ یہ الفاظ بندیا رانا کے ہیں جو کراچی میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے بارے میں حکام سے زیادہ فکر مند اور سرگرم نظر آتی ہیں۔
صوبہ سندھ میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن میں عدم دلچسپی کے بعد محکمہ سماجی فلاح و بہبود نے خواجہ سراؤں کی تنظیموں کی مدد حاصل کی ہے، جس میں بندیا کی تنظیم جینڈر انٹر ایکٹو ایسوسی ایشن سرگرم ہے۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں ملک بھر میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے احکامات جاری کیے تھے اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ انہیں بلاجواز تنگ نہ کیا جائے اور محکمہ صحت ان کے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس بی کے ٹیسٹ کرانے کا انتظام کرے ۔
عدالتی احکامات کے بعد سندھ میں محکمہ سماجی فلاح و بہبود نے خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کروائے، جن میں ان کا نام، والد کا نام، والد کے گھر کا پتہ، موجودہ رہائش، عمر، مشابہت، ذریعہ روزگار، تعلیم، مادری زبان، شناختی کارڈ نمبر، رابطہ نمبر،گرو کے ساتھ یا اکیلے رہتے ہیں جیسی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
محکمہ سوشل ویلفیئر کے صوبائی کوآرڈینیٹر محمد اختر غوری کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات کے بعد بھی خواجہ سراؤں نے رجسٹریشن میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جس کے بعد تین نومبر کو دوبارہ اشتہار دیا گیا کہ اگر کسی ادارے یا غیر سرکاری تنظیم کے پاس خواجہ سراؤں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات ہیں تو اس کا تبادلہ کرے تاکہ یہ معلومات خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوسکیں۔
اختر غوری کے مطابق خواجہ سراؤں کو یہ خوف تھا کہ شاید حکومت ان کے خلاف کوئی آپریشن کرنے والی ہے، اس صورتحال کے بعد کراچی اور سکھر میں خواجہ سراؤں کی دو تنظیمیں رجسٹرڈ کی گئیں جس کے بعد بہتری آئی اور اب تک صوبے بھر میں اٹھارہ سو خواجہ سرا رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ تعداد پانچ سے سات ہزار تک پہنچ جائے گی۔
جینڈر انٹرایکٹو ایسوسی ایشن کی سربراہ بندیا رانا کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کا کام دینا ہی خواجہ سروں کو چاہیے تھا، ان سے اتنی ناانصافیاں ہوئیں ہیں کہ وہ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ نام اور پتہ معلوم کرکے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ اس لیے وہ رجسٹریشن سے گھبرا رہے تھے مگر جب انہیں سمجھایا گیا تو مان گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی بھی خواجہ سرا رجسٹریشن سے رہ نہ جائے، اس لیے کوشش کر رہے ہیں کہ ہر جگہ پہنچیں۔ بقول ان کے جب وہ ایک خواجہ سرا کے گھر پر جاتے ہیں تو وہاں سے ایک اور کا پتہ چل جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بندیا رانا کا کہنا ہے کہ جب خواجہ سراؤں کی تعداد معلوم ہوگی اس کے بعد تو وہ ان کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ لے سکیں گے اور حکومت سے بات ہو سکے گی۔
وہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پنجاب حکومت نے صرف ایک ہزار خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کی ہے حالانکہ پنجاب کی آبادی زیادہ ہے اور کراچی میں خواجہ سراؤں کی زیادہ تعداد پنجاب سے ہی آتی ہے ۔ اس لیے ان کی کوشش ہے کہ سندھ سے تعداد کم نہ ہو۔
کراچی کے خواجہ سراؤں کی اس تنطیم نے چھ سو فارم پر کروا لیے ہیں۔ تنظیم کی نائب صدر ثانیہ کا کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا سندھی، سرائیکی، بلوچی، اردو اور پنجابی بولنے والے ہیں جو آٹھویں کلاس تک تعلیم یافتہ ہیں ،کچھ تو گریجوئیٹ، انجینیئر اور ڈاکٹر ہیں مگر انہیں مرد بن کر رہنا پڑتا ہے۔
’ہمارے خصوصی شناختی کارڈ بنائے جائیں ہم جو اندر سے ہیں وہ باہر سے بھی دکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو کہ لیڈیز کپڑے نہ پہنو، بال لمبے نہ رکھو میک اپ نہ کرو۔‘
سندھ میں محکمہ سماجی فلاح و بہبود کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کی تاریخ میں مزید توسیع کی جائے تاکہ درست تعداد سامنے آسکے۔ محکمہ کے صوبائی کوآرڈینیٹر محمد اختر غوری کا کہنا ہےکہ رجسٹریشن کے بعد دوسرے مرحلے میں حکومت کو شیلٹر ہوم بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہیں چھوٹے قرضے، میک اپ اور سلائی کڑہائی کی تربیت فراہم کرنے کا بھی بندوبست کیا جائے گا۔







