’خواجہ سراؤں کو نوکریاں دیں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ خواجہ سراؤں کو معذروں کے کوٹے میں رکھ کر اُن کو نہ صرف معاشرے کا فعال رکن بنائے بلکہ اُن کے لیے نوکریوں کا بھی بندوبست کرے۔
یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز خواجہ سراوں کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
افتخار محمد چوہدری نے قائم مقام اٹارنی جنرل شاہ خاور کو ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریوں اور ایڈووکیٹ جنرل کا اجلاس طلب کریں اور ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس پر عمل کرکے اُن کی بھلائی کے کام کیے کیے جائیں۔
اُنہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ خواجہ سراؤں کے لیے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ بنائیں تاکہ اُن کو تربیت دے کر اُنھیں روزگار فراہم کیا جا سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو تربیت دیکر اُنھیں نرسنگ یا دائی کے شعبوں میں لایا جا سکتا ہے۔
بینچ میں شامل جج چوہدری اعجاز نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کو معاشرے سے علیحدہ کر کے رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گُزار اسلم خاکی کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو اُن کے گھر والے بھی اپنے ساتھ نہیں رکھتے اور نہ ہی اُنہیں جائیداد میں حصہ ملتا ہے۔
افتخار محمد چوہدری نے حکومت سے کہا کہ وہ خواجہ سراؤں کے طبی معائنے کے بعد جن کا رجحان مردوں کی طرف ہے اُن کا نام شناختی کارڈ میں مردوں کے خانے میں شامل کیا جائے اور جن کا رجحان عورتوں کی طرف ہے اُن کا اندراج خواتین کے خانے میں درج کرکے اُنہیں شناختی کارڈ جاری کیے جائیں۔ اس پر خواجہ سراؤں کی تنظیم کے سربراہ الماس شاہ بوبی نے عدالت سے درخواست کی کہ خواجہ سراؤں کے لیے شناختی کاروڈ میں ایک علیحدہ خانہ بنایا جائے جہاں پر اُن کا اندراج کیا جائے۔
پنجاب حکومت کے ایک نمائندے نے عدالت میں خواجہ سراؤں کے سروے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت تک صوبہ پنجاب میں ایک ہزار سات سو سولہ خواجہ سراہ ہیں جن میں سے ایک سو انچاس افراد اپنی مرضی سے خواجہ سرا بنے ہیں۔
درخواست گُزار نے عدالت کو بتایا کہ کچھ جعلی خواجہ سراؤں کی نشاندہی بھی ہوئی ہے جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ شادی شدہ ہیں اور اُن کے بچے بھی ہیں تاہم وہ روزگار نہ ملنے کے باعث وہ سرخی پاؤڈر لگا کر سیکس ورکر بن گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افتخار محمد چوہدری نے حکومت کو ہدایت کی کہ پورے ملک میں موجود خواجہ سراؤں کا سماجی پس منظر معلوم کیا جائے اور اس ضمن میں ایک مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت بیس نومبر تک ملتوی کردی۔
سماعت کے بعد خواجہ سراؤں کی تنظیم کی سرکردہ رہنما الماس شاہ بوبی نے سپریم کورٹ کے احاطے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے کام سُست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سراہ رجسٹریشن کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود اُن کے ساتھ حکومتی ادارے امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔







