’خسارے میں کمی، شرحِ نمو دو فیصد‘

مالی سال 09ء میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2.0 فیصد رہی
،تصویر کا کیپشنمالی سال 09ء میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2.0 فیصد رہی
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے مرکزی بینک نے جمعرات کو مالی سال 09 - 2008 کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق مثبت اقدامات کے باعث مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہوا ہے جبکہ مجموعی سالانہ پیداوار کی شرحِ نمو دو فیصد رہی ہے۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج بحال ہو رہی ہے اور رواں مالی سال 10-2009 کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی نمو اپنے ہدف تین اعشاریہ تین فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 09ء میں معاشی استحکام پروگرام کے نتیجے میں نمایاں مالیاتی استحکام آیا۔ معاشی پالیسی کے مقاصد میں (مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے کے لیے) ملکی اشیاء اور (درآمدات اور شرح مبادلہ کے دباؤ میں کمی لانے کے لیے) بیرونی اشیاء کی طلب گھٹانے کی خاطر زری سختی اور مالیاتی اقدامات شامل ہیں۔ خاص طور پر مالی سال 09ء کے دوران مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر چھ سو اسّی ارب چالیس کروڑ روپے رہ گیا جبکہ گذشتہ سال یہ خسارہ سات سو ستتر ارب بیس کروڑ روپے تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 09ء کے دوران مالیات میں بہتری کے نتیجے میں جی ڈی پی یعنی مجموعی پیداوار کے فیصد کے لحاظ سے بجٹ خسارہ دو اعشاریہ چار فیصد کمی کے بعد پانچ اعشاریہ دو فیصد رہ گیا۔ مالیاتی توازن میں استحکام، مجموعی اخراجات کی نمو میں تیزی سے کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 09ء میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو دو فیصد رہی جبکہ مالی سال 09ءمیں مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت بیس اعشاریہ آٹھ فیصد رہی جبکہ مالیاتی خسارہ پانچ اعشاریہ دو فیصد اور جاری حسابات کا خسارہ جی ڈی پی کے پانچ اعشاریہ تین فیصد پر آ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت میں متوقع بحالی سے سامان کو ذخیرہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور اہم معیشتوں کی صورتحال بہتر ہونے سے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 2010 کی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی اشیاء سازی کی پیداوار میں مثبت نمو کا امکان ہے۔ جبکہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں تیزی سے کمی کی وجہ سے تقابلی قیمتوں کی غیر یقینی کیفیت میں کمی ہوئی ہے اور سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ ہوگا۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال2010ء کے دوران مجموعی پیداوار میں نمو کی شرح ڈھائی فیصد سے ساڑھے تین فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی کی اوسط سالانہ شرح دس سے بارہ فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے جبکہ مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ دونوں کے خسارے چار اعشاریہ سات سے پانچ اعشاریہ دو فیصد رہنے کا امکان ہے۔

سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ہونے والی پیش رفت اور کمزور عالمی معیشت سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی معیشت کی پائیداری کا اہم ترین محرک زراعت کے شعبے سے ہی آنا چاہیے۔ سازگار موسمی حالات، زرعی اشیاء کی بلند قیمتوں اور معاون حکومتی پالیسیوں کے باعث زرعی شعبے کی کارکردگی مالی سال2010ءمیں اپنے ہدف کے قریب رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ وسط تا طویل مدت میں نمو کے قوی امکانات ہیں اور اس کے لیے زرعی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ پیداوار میں بہتری لائی جائے، کٹائی کے بعد نقصانات کو کم کیا جائے، پانی کے بہتر انتظام اور قدر اضافی کو بڑھایا جاسکے۔ اس سرمایہ کاری سے ملک میں غذائی تحفظ یقینی ہو گا، مہنگائی کا دباؤ نیچے لانے میں مدد ملے گی، درآمدی بل میں کمی آئے گی، برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا اور ساتھ ہی روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق حالیہ عالمی بحران کی وجہ سے طویل مدت کے لیے عالمی تجارت و کاروبار میں نمایاں تبدیلیاں ابھی جاری ہیں۔ کئی ایشیائی معیشتیں اس وقت پیداوار کے نقصانات کا شکار ہیں کیونکہ ان کا انحصار اہم مغربی معیشتوں پر تھا اس لیے اب یہ اپنی برآمدات میں نمو کے ماڈلز پر سوالات اٹھا رہی ہیں اور علاقائی تجارت پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔

رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کو ان تبدیلیوں میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ نئی تجارتی منڈیوں اور روابط استوار کرنے اور برآمدات کو متنوع بنانے کے لیے یہ ضروری ہے۔

سٹیٹ بینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ عالمی مالی بحران کے پیش نظر پاکستان میں بچت کے کلچر کو فروغ دینے اور بچت اداروں کی تشکیل بہت ضروری ہے۔ بچت میں اضافے کے لیے بچت کے ادارے تعمیر کرنے ہوں گے جن میں پنشن اور پراویڈنٹ فنڈ جمع ہوسکیں۔ علاوہ ازیں بچت پر مسابقتی منافع دینے اور عوامی شرکت بڑھانے کے لیے مؤثر ثانوی قرضہ منڈی درکار ہے، خصوصاً قابل تجارت حکومتی پیپرز کے لیے۔ اس سے ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہو گا کہ بینکاری نظام کی کارکردگی اور زری پالیسی کی ترسیل میں بھی بہتری آئے گی۔