طالبان کے خوف سے تبلیغی جماعت میں پناہ

- مصنف, نثار کھوکھر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی نے ملکی سیاسی حالات پر تو برے اثرات مرتب کیے ہی ہیں، پشتو گلوکاروں اور فنکاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس مذہبی شدت پسندی کی لہر کا سب سے آسان ہدف بنے ہیں۔
پشتو کے مقبول فنکار کمال محسود نے طالبان کی دھمکیوں کے بعد تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور تبلیغ پر گئے ہوئے ہیں۔
کمال محسود نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ان کی زندگی خطرے میں تھی اور ایک دوست کےمشورے پر انہوں نے تبلیغی جماعت کی ایک مسجد میں پناہ لے رکھی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے ایس پی انویسٹیگیشن کو تحفظ کی درخواست دی ہے اور وہ خط بھی ان کے حوالے کر دیا ہے جو تحریک طالبان نے موت کی دھمکی کے ساتھ ان کے نام لکھا ہے۔
کمال محسود پشتو لوک موسیقی میں ایک معتبر نام ہیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان میں یکساں مقبول ہیں اور انہوں نے سرائیکی اور اردو میں بھی کئی یادگار نغمے گائے ہیں۔
کمال محسود کا کہنا تھا کہ دو دن قبل وہ اپنی اہلیہ کو اسلام آباد کے ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے اس کے بعد ایک سٹور سے دوائی لینے گئے۔ واپسی پر ان کی گاڑی کےوائپر کے نیچے ایک خط پڑا ملا جو تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تھا۔
کمال محسود کا کہنا ہے ایک صفحے کے خط کی ابتدا الجہاد اور اللہ اکبر کےنعروں سے ہوتی ہے۔ بعد میں کمال محسود کا ولدیت سمیت نام لکھ کر کہا گیا ہے کہ انہوں نے موسیقی جیسے غیر شرعی کام کو نہیں چھوڑا ہے اور مغربی میڈیا میں طالبان کے خلاف انٹرویوز دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی سزا موت ہے۔ کمال کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لیں کیونکہ طالبان اسلام آباد میں بھی ان کے بہت قریب ہیں۔
کمال نے طالبان کی ان دھمکیوں کے بعد اسلام آباد میں اپنا گھر چھوڑ دیا ہے اور اپنے ایک دوست کی معرفت کچھ دنوں کے لیے تبلیغی جماعت میں شمولیت کر لی ہے۔

کمال نے فون پر مختصر گفتگو میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت ایک مسجد میں ہیں اور تبلیغی جماعت والے پُر امن لوگ ہیں دوسروں کی طرح خون خرابے میں یقین نہیں رکھتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمال محسود پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں مقیم پختونوں میں بہت مقبول ہیں۔ انہوں نے دو سال قبل طالبان کی دھمکیوں کے بعد ٹانک میں اپنا آبائی گھر چھوڑ دیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کی گئی آرٹس کونسل کو بھی انہوں نے خیرباد کہا۔
کمال محسود گزشتہ دو برسوں سے زیر زمین زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے خاندان کے ہمراہ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے رہے ہیں۔
کمال محسود کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی فوج کے لیے امن کے گیت گائے تھے جس کی آڈیو کیسٹیں مفت میں وزیرستان کے لوگوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔ کمال کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسند ان کے خلاف تو تھے ہی مگر فوج کے لیے نغمے گانے کے بعد وہ ان کے جانی دشمن بن گئے اور وہ خوفزدہ اس لیے ہیں کہ انہوں نے ان کی گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا ہے۔







