تعمیر نو: چار سالوں میں دس فیصد کام

زلزلہ زدہ علاقوں میں طالب علم کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
،تصویر کا کیپشنزلزلہ زدہ علاقوں میں طالب علم کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقوں میں چار سال گزر جانے کے بعد بھی تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں سے صرف دس فیصد عمارتیں ہی تعمیر ہوسکی ہیں۔

تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی از سر نو تعمیر میں سست روی کے باعث بیشتر طلبا و طالبات جن میں اکثریت بچوں کی ہے اب بھی خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

مظفرآباد کے نواحی علاقے چہلہ بانڈی میں قائم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی بچیاں زلزلے کے بعد سے خمیوں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ خیمے اب بوسیدہ ہوچکے ہیں اور جگہ جگہ پھٹے ہوئے ہیں۔

ساتویں جماعت کی طالبہ سلمیٰ فاروق کہتی ہیں کہ ’ہم چار سالوں سے ان خیمے میں پڑھ رہے ہیں اور یہ اب پھٹ چکے ہیں۔‘

سلمیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ہماری طرف توجہ دے اور ہمیں عمارت بناکر دی جائے تاکہ ہم بہتر ماحول میں تعلیم جاری رکھ سکیں۔

طالبہ کا کہنا ہے کہ’ہم بھی اسی ریاست میں رہتے ہیں اور نہ جانے ہمیں چار سال سے کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔‘

چار سال قبل آنے والے زلزلے میں اس اسکول کی عمارت تباہ ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں ساٹھ بچیاں اور چار ٹیجرز ہلاک ہوگئی تھیں۔

اس اسکول میں کوئی تین سو بچیاں زیر تعلیم ہیں اور یہاں پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔

آٹھویں جماعت کی طالبہ مدیحہ نے کہنا ہے کہ گرمی ہو یا سردی بارش ہو یا دھوپ وہ ان ہی خیموں میں پڑھنے کے لئے مجبور ہیں۔

ان کا کہنا ہے ہمیں شدید گرمی میں ان کے خمیوں میں پنکھے نہیں ہوتے اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام ہے۔

مدیحہ نے کہا کہ ’جب بارش ہوتی ہے تو پانی خیمے کے اندر آجاتا ہے اور ہم اس میں بیٹھ نہیں سکتے ہیں اور ہمیں چھٹی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہماری تعلیم متاثر ہورہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان چاروں سالوں کے دوراں کئی وزیر ان کے اسکول میں آئے اور فوٹو بنوائے اور چلے گئے لیکن ہماری عمارت کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔

اس اسکول کی ہیڈ مسٹرس گلزار اختر اعوان کی بھی یہی التجا ہے کہ ان کو چھت فراہم کی جائے تاکہ بچے مناسب ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں۔

ان کا باہر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال میں یہ بچیاں کیا پڑھیں گی۔

خمیوں میں جگہ کم ہونے کے باعث بہت ساری بچیاں کھلے میدان میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

گلزار اختر کا کہنا ہے کہ بچوں کو پڑھائی کے لئے مناسب ماحول میسر نہیں جس کی وجہ ان کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ’ہمیں عارضی عمارت ہی فراہم کی جائے تاکہ بچیاں دھوپ اور بارش سے بچ سکیں اور اپنی پڑھائی پر بھر پور توجہ سکیں۔‘

یہ معاملہ صرف اسی اسکول کے بچوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ متاثرہ علاقوں میں بیشتر بچے خمیوں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں کشمیر کے اس خطے میں ساڑھے اٹھائیس سو تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے تھے۔

اس کے نتیجے میں کوئی چار ہزار طالب علم جن میں بیشتر بچے تھے ہلاک ہوگئے تھے جبکہ کوئی دو سو ٹیچرز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستان کے تعمیر نو و بحالی کے ادارے ایرا نے کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقوں میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو تین برسوں میں مرحلہ وار از سر نو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

لیکن چوتھا مالی سال شروع ہونے کے باوجود حکام کے مطابق ان میں سے صرف دو سو بیاسی عمارتیں ہی مکمل کی گئی ہیں جبکہ لگ بھگ چودہ سو عمارتیں زیر تعمیر ہیں اور کوئی بارہ سو عمارتوں پر ابھی کام شروع ہی نہیں کیا گیا۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ نئی تعمیر شدہ عمارتیں اعلیٰ معیار کی حامل ہیں اور یہ عمارتیں زلزلے کو مد نظر رکھ کر تعمیر کی گئی ہیں۔

کشمیر کے اس علاقے کے تعمیر نو و بحالی کے ریاستی ادارے کے سربراہ ڈاکڑ آصف حسین شاہ نے کہا کہ تین سالوں میں ساڑھے اٹھائیس سو تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو تعمیر کرنے کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ طور پر اونچا ہدف تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ’ تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کی از سر نو تعمیر بہت بڑا کام ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں وقت لگ رہا ہے۔‘

انہوں نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی از سر تعمیر میں سست روی کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ عمارتیں تعلیمی اداروں کی تعمیر کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دو بیاسی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ کوئی چودہ سو پر کام جاری ہی اور دیگر بارہ سو عمارتوں کے ڈیزائن تیار کئے جارہے ہیں۔

ڈاکڑ آصف نے امید ظاہر کی سن دو ہزار گیارہ تک تمام تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔

لیکن کشمیر کے اس علاقے کی سماجی بہبود کی وزیر نورین عارف کا موقف مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے’ ایرا‘ کے چارٹر کے مطابق ایرا کو تعمیر نو کے لئے رقوم فراہم کرنا ہے جبکہ مقامی حکومتوں کا کام منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایرا رقوم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبوں پر بھی خود ہی عمل درآمد کررہا ہے اور کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کا تعمیر نو میں برائے نام کردار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب تک پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے تعمیر نو و بحالی کے ادارے اور اس خطے کی حکومت مل کر تعمیر نو کے کام کو آگے نہیں بڑھائیں گے اس وقت اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اگر ان کی حکومت کو تعمیر نو کے عمل میں الگ رکھا گیا تو پھر مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے ہیں۔‘

کشمیر کے اس خطے کی حکومت اور پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے ایرا کے درمیان اختیارات پر تنازعہ اپنی جگہ مگر اصل مشکل کا سامنا زلزلہ زدہ علاقوں میں ان طالب علموں کو کرنا پڑرہا ہے جواب بھی خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔