لاہور:عالمی چلڈرن فلم فیسٹیول کا آغاز

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں منگل سے دوسرا بین الاقوامی چلڈرن فلم فیسٹیول شروع ہوگیا ہے اور اس فلمی میلے میں سینتیس ممالک کی 263 فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
یہ میلہ گیارہ اکتوبر تک جاری رہے گا۔
اس میلے کا انتظام فیروز پور روڈ پر واقع علی انسٹیوٹ آف ایجوکیشن نے کیا ہے اور یہ فلمیں اسی ادارے کے آڈیٹوریم میں دکھائی جا رہیں ہیں۔
اس میلے میں جن فلموں کی نمائش کی جا رہی ہے وہ یا تو بچوں نے خود بنائی ہیں یا پھر پیشہ ور فلم سازوں کی ان فلموں کا موضوع بچے ہیں۔
فلم میلے میں ہر روز صبح نو سے ساڑھے گیارہ بجے تک جبکہ رات کو چھ سے آٹھ بجے تک دو شو دکھائے جائیں گے۔
منگل کی صبح دکھائی جانے والی سات فلموں میں سے بھارت کے جے ڈی امایا ورمن کی تخلیق کردہ اس فلم کو کافی پسند کیا گیا جس کا موضوع ’بھوک‘ ہے۔
فلم کی کہانی ایک غریب بچے کے گرد گھومتی ہے جو کہ ِبنا کچھ کھائے سکول چلا جاتا ہے۔ یہ سکول سرحد کے کنارے ایک گاؤں میں ہے اور جب کوئی طیارہ پرواز کرتا ہے یا گولیاں چلنے کی آواز آتی ہے تو سائرن بجایا جاتا ہے تاکہ لوگ محفوظ جگہوں پر پناہ لے سکیں۔
بچے کا استاد اس کے سامنے کھانا کھا رہا ہوتا ہے اور بچہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے، یکا یک سائرن کی آواز آتی ہے اور سب محفوظ جگہ ڈھونڈتے ہیں۔ استاد بھی کھانا چھوڑ کر میز کے نیچے پناہ لے لیتا ہے جبکہ وہ بھوکا بچہ ہر خوف سے آزاد استاد کا چھوڑا ہوا کھانا کھانے لگتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیادہ تر فلموں کا دورانیہ دس سے پندرہ منٹ ہے تاہم کچھ فلمیں دو سے پانچ منٹ کی اور کچھ آدھ گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی بھی ہیں۔
میلے کے منتظمین کے مطابق یہ میلہ دیگر بین الاقوامی میلوں کے تعاون سے ممکن ہوا۔ ان بین الاقوامی میلوں میں لاس اینجلس انٹرنیشنل چلڈرن فلم فیسٹیول ، لٹل بگ شاٹس فلم فیسٹیول فار کڈز، کڈز فار کڈز انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، ٹورنٹو انٹرنیشنل چلڈرن فلم فیسٹیول اور پری جیونیس فیسٹیول میونخ شامل ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق اس میلے کو گزشتہ سال بھی بہت پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور گیارہ ہزار لوگوں نے اسے دیکھا تھا جبکہ اس بار بھی صبح کے شوز کے ٹکٹس بک چکے ہیں۔صبح کے شوز میں سکولوں کے بچے اپنےاساتذہ کے ساتھ فلمیں دیکھنے آ رہے ہیں۔







