’منگل باغ کی دھمکی،300 خاصہ دار غیرحاضر‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ کی دھمکیوں کے بعد حکومتی حکم کے باوجود خاصہ فورس کے تین سو سے زائد اہلکار ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئے ہیں۔
خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ طارق حیات خان نے بی بی سی کو بتایا کہ لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ نے خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو دھمکی دی تھی کہ وہ نوکریوں پر حاضر نہ ہو۔
ان کے مطابق اس کے بعد پولیٹیکل انتظامیہ نے خاصہ دار فورس کے تمام اہلکاروں کو حکم دیا کہ وہ سنیچر کی دوپہر بارہ بجے تک حاضر ہوجائیں بصورت دیگر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
پولیٹیکل ایجنٹ کا مزید کہنا تھا کہ اہلکاروں میں سے تین سو سے زائد مقررہ وقت پر ڈیوٹیوں پر حاضر نہیں ہوئے جس کے بعد انہیں نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان اہلکاروں کی خالی آسامیوں پر اب نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ طارق حیات کے بقول اہلکاروں کےڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے سے علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
پاکستانی فوج نے خیبر ایجنسی میں گزشتہ دس دنوں سے لشکرِ اسلام کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک ایک سو سات کے قریب شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے شدت پسندوں کی ہلاکتوں کے بارے میں حکومت مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہے۔ ان کے بقول اب تک دو درجن کے قریب افراد کو ہلاک کیا گیا ہے جن میں کئی شہری بھی شامل ہیں۔
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کی دھمکیوں اور کارروائیوں کے بعد درجنوں پولیس اہلکاروں نے نوکریاں چھوڑ دی تھیں اور اب خیبر ایجنسی میں کسی شدت پسند تنظیم کی جانب سے دھمکی پر اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کا نوکریاں کرنے سے انکار اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندی سے متاثر قبائلی اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درجنوں اہلکاروں نے بھی نوکریاں چھوڑ دی ہیں جبکہ لوگ نئی بھرتیوں میں بھی پہلے کی طرح گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔



