مسلم خان: پی پی پی سے طالبان تک

مسلم خان زمانہ طالبعلمی میں بائیں بازو کے سرگرم کارکن رہے اور پانچ زبانوں پر دسترس حاصل ہے
،تصویر کا کیپشنمسلم خان زمانہ طالبعلمی میں بائیں بازو کے سرگرم کارکن رہے اور پانچ زبانوں پر دسترس حاصل ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

سوات میں سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار طالبان میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جو زمانہ طالب علمی میں بائیں بازو تحریک کا رکن رہ چکا تھا۔

یہ تھے سوات میں طالبان کے چون سالہ ترجمان حاجی مسلم خان، جو انیس سو ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی دورِ حکومت میں ضلع سوات کے جہانزیب کالج میں پیپلزسٹوڈننٹس فیڈریشن سرگرم رکن تھے اور کئی دہائیوں کے گزر جانے کے بعد اسی پیپلز پارٹی کے خلاف طالبان کے ہمراہ سوات کے ہی پہاڑوں میں مورچہ زن تھے۔

طالبان کی صفوں میں ایک ایسا جنگجو بھی شامل تھا جنہوں نے یورپ سمیت پندرہ ممالک کا سفر کیا۔ جو زمانہ طالبعلمی میں بائیں بازو کے سرگرم کارکن ہونے کے ناطے پچیس دن جیل میں رہے اور جنہیں پانچ زبانوں پر دسترس حاصل ہے۔ انہوں نے ایف اے تک تعلیم بھی حاصل کی ہے۔

پچھلے سال جب سوات میں مولانا فضل اللہ کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہوئی تھی تو صحافیوں کے ہمراہ میں بھی ان کے مرکز امام ڈھیرئی پہنچا۔ وہاں ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس نے سر پر’جھنگوی انداز‘ کی چادر پہنی تھی، ان کےلمبے لمبے بال اور بڑی داڑھی تھی اور ہر ایک کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔

انہوں نے پہلے میڈیا کے ساتھ اردو میں بات کی، پھر ایک انگریزی چینل کو انگریزی میں انٹرویو دیا، پھر پشتو زبان میں بات کی اور آخر میں جب انہوں نےعربی چینل کے نمائندے کے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات عربی زبان میں دیے تو وہاں پر موجود تمام صحافیوں نے ایک دوسرے کو حیرت بھری نظروں سے دیکھا۔ بات ختم کرنے بعد ہنستے ہوئے کہنے لگے ’اگر فارسی کا کوئی صحافی موجود ہے تو وہ بھی آگے آجائیں‘۔

مسلم خان ضلع سوات کے کوزہ بانڈہ میں آٹھ اگست انیس سو چون کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے میٹرک اپنے آبائی علاقے سے کیا جس کے بعد انہوں نے انیس سو بہتر میں جہانزیب کالج سوات میں داخلہ لیا۔اس وقت مرکز میں ذولفقار علی بھٹو کی جبکہ صوبہ سرحد میں نیپ اور جمیعت علماء اسلام کی مخلوط حکومت قائم تھی۔

وہ جس پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف طالبان کے ہمراہ لڑ رہے تھے انیس سو ستر بہتر میں اسی پارٹی کے ساتھ وابستگی کی بناء پر انہیں پچیس دن تک جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ جیل جانے کی وجہ وہ دو سکیورٹی اہلکاروں اور اسسٹنٹ کمشنر کا اغوا بتاتے ہیں جنہیں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوشیلے نوجوانوں نے اپنی ایک ساتھی کی ہلاکت کے بدلے میں اغواء کیا تھا۔

جیل سے نکل جانے کے بعد انہوں نے تعلیم کو خیر باد کہا اور پاکستان شپنگ کارپوریشن کے توسط سے ایک برطانوی کمپنی میں بطور سی مین کے وابستہ ہوئے جس کے ساتھ انہوں نے دو سال تک کام کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد وہ کویت چلے گئے اور وہاں پر مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں ملازمت کی مگر جب عراق نے کویت پر چڑھائی کی تو وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح پاکستان آئے اور ضلع سوات میں اپنا میڈیکل سٹور کھولا۔

آجکل امریکہ کے جانی دشمن حاجی مسلم خان انیس سو ننانوے میں امریکہ گئے اور وہاں پر رنگ روغن کرنے والی ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ ان کا خیال ہے کہ ’امریکہ کی حکومت بدمعاش اور عوام مہذب و شریف ہیں‘۔ انہوں نے عرب ممالک اورامریکہ سمیت یورپ اور مشرق بعید کے تقریباً پندرہ ممالک دیکھے ہیں جن میں سے انہیں جاپان اس لیے پسند ہے کہ ’اس کے لوگ محنتی، مہذب، ملنسار اور خدمت گزار ہیں‘۔

قدرے معتدل سوچ کے مالک حاجی مسلم خان میں اس وقت تبدیلی آئی جب انیس سو نوے کی دہائی میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے رہنماء مولانا صوفی محمد نے ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے متعدد حکومتی عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ تب سے وہ اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔

آجکل ان کا تعلق ان سخت گیر طالبان سے ہے جو تصویر کھینچنے کو بھی ’غیر شرعی‘ عمل سمجھتے ہیں۔ پشاور میں صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کیمرہ مینوں نےچوری چھپے ان کی تصویر یا فلم بنانے کی بھر پورکوشش کی جس میں کچھ کو تو کامیابی حاصل ہوئی مگر بعض کو ان کی آدھی تصویر ہی ملی۔ ان کے بقول’پیپلز پارٹی میں میں مولانا کوثر نیازی سے متاثر تھا کیونکہ وہ پارٹی کے اندر اسلام کی بات کرتے تھے مگر ہم تو جذباتی نوجوان تھے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اندر تو کوئی اور کھچڑی پک رہی ہے۔‘

حاجی مسلم خان سوات میں مسلح طالبان کی جانب سے جلائے جانے والے ایک سو پندرہ سے زائد سکولوں کی ذمہ دای قبول کرچکے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ان تعلیمی اداروں میں مغربیت کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ان کا بڑا بیٹا ایک نجی یونیورسٹی میں فارمیسی کے طالبعلم تھے لیکن یہ خبر آنے کے بعد کہ وہ نجی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں مسلم خان نے سکیورٹی خدشات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم کرا دیا تھا۔ ان کے پاس اپنے بیٹے کو نجی یونیورسٹی میں فارمیسی کی تعلیم دینے کی دلیل یہ تھی کہ ’اسلام میں ادویات کے بارے میں علم حاصل کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔‘