قاضی فیض عیسیٰ کون ہیں؟

قاضی فیض عیسیٰ
،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے نئے چیف جسٹس قاضی فیض عیسیٰ
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بلوچستان کے نئے چیف جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کی وجہ شہرت ایک وکیل کے ساتھ عدالت کے معاون کی بھی رہی ہے۔ وہ کئی پیچیدہ معاملات کی گتھایاں سلجھانے میں عدالت کی معاونت کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے چھبیس اکتوبر انیس سو انسٹھ میں بلوچستان کے علاقے پشین میں جنم لیا۔ پشین جنرل ایوب خان اور بھارت کے مشہور مزاحیہ اداکار قادر خان کی بھی جائے پیدائش ہے۔ جسٹس قاضی فیض عیسیٰ نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ گرائمر سکول سے حاصل کی۔ بعد میں انیس سو اکیاسی میں لندن سے بی اے آنرز کیا اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انیس سو تراسی سے انہوں نے وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔

وہ کارپوریٹ، دیوانی اور ماحولیات کے بارے میں قوانین میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔ انہوں نے کبھی بار کی سیاست نہیں کی تاہم سندھ ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کے رکن اور سپریم کورٹ بار کے تاحیات رکن رہے۔ اور کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور قبضوں کی نگرانی کا کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم شہری کے بھی سرگرم رکن رہے۔

قاضی فیض عیسیٰ کا خاندان بلوچستان کی تاریخ اور سیاست میں اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے والد قاضی محمد عیسیٰ مسلم لیگ بلوچستان کے پہلے صوبائی صدر تھے اور جب بلوچستان کے عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے کمیشن بنایا گیا تھا تو وہ اس کے رکن تھے۔ انہیں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی قربت حاصل رہی اور ان کا برازیل میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تقرر کیا گیا تھا۔

ان کی چچی جنیفر موسیٰ کا تعلق آئرلینڈ سے تھا۔ شادی کے بعد سے لیکر آخری دنوں تک وہ پشین میں رہیں۔ انیس سو ستر کے انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ انہیں بلوچستان کی رانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1973 کے آئین پر دستخط کرنے سے صرف اس لیے انکار کردیا تھا کہ اس میں ان کی دانست میں صوبوں کی خودمختاری کا تحفظ نہیں کیا گیا۔

ان کے بیٹے اشرف جہانگیر قاضی کا شمار پاکستان کے سینئر سفارتکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ امریکہ اور بھارت میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے انہیں ستمبر 2007 میں سوڈان کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا۔

قاضی فیض عیسیٰ کے کزن کلیم عمر نے انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز میں لکھا تھا کہ قاضی فیض عیسیٰ کے پڑ دادا قاضی جلال الدین جو افغانستان کے صوبے قندہار کے جدی پشتی جج تھے اور ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ برطانوی راج کے خلاف بغاوت پر انہیں ملک بدر کیا گیا تھا جس کے بعد وہ انیسویں صدی کے اوائل میں پشین میں آکر آباد ہوئے۔ ان کی اولاد نے قاضی کے لقب کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا ۔

 قاضی محمد عیسیٰ
،تصویر کا کیپشنقاضی فیض عیسیٰ کے والد قاضی محمد عیسیٰ مسلم لیگ بلوچستان کے پہلے صوبائی صدر تھے

جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کی زیادہ تر پریکٹس کراچی میں رہی جہاں ان کا دفتر بھی ہے۔ کراچی میں بارہ مئی اور بھارتی فلموں کی مقامی سنیما میں نمائش پر پابندی کے خلاف آئینی پٹیشن کی سماعت کے موقعے پر وہ عدالت کی معاونت کر چکے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں پی سی او ججز کی توثیق کے خلاف سندھ ہائی کورٹ بار کی درخواست پر بھی انہوں نے عدالت کی معاونت کی، اس مقدمے میں کامیابی کے بعد ہائی کورٹ بار نے آگے چل کر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس پر فیصلے میں پی سی او ججز کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف قاضی فیض نے سخت موقف اختیار کیا اور اس بارے میں اخبارت میں لکھتے رہے اور ٹی وی چینلز کے مذاکروں میں شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان کے بانی رہنماؤں کی دیگر اولاد کے ساتھ مل کر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو مشترکہ خط بھی لکھا جس میں چیف جسٹس کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

وہ ’ماس میڈیا لاز، ریگولیشنس ان پاکستان‘ اور ’بلوچستان کیس اینڈ ڈیمانڈ‘ کے نام سے دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منظور قادر کی تعیناتی کے بعد کسی وکیل کی براہ راست بطور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی یہ دوسری مقرری ہے۔ یہ آسامی بلوچستان کے چیف جسٹس سمیت پانچ ججوں کے استعفوں کے بعد خالی ہوئی تھی جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا۔

قاضی فیض عیسیٰ کی تعیناتی ایک ایسے وقت ہوئی ہے، جب بلوچستان ہائی کورٹ میں پانچ ہزار سے ذائد مقدمات التویٰ کا شکار ہیں، جن میں لاپتہ اور ہلاک ہونے والے بلوچ کارکنوں کے مقدمات بھی شامل ہیں۔