سانگھڑ: عورت پر بے حرمتی کا الزام

کرسچن بستی: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں میں قرآن کے مبینہ بے حرمتی کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد سندھ

صوبہ سندھ میں سانگھڑ پولیس ایک مقامی دکاندار کے ان الزامات کی جانچ کر رہی ہے جس میں ایک ساٹھ سالہ بزرگ خاتون کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ قرآن کی مبینہ بےحرمتی میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بزرگ خاتون اختری بیگم کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

سانگھڑ کے ایس پی جانچ عابد قائم خانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس کیس کی خود تحقیقات کر رہے ہیں اور فریقین کے ساتھ ساتھ انہوں شہر کی بار،میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی مدعو کیا ہے تا کہ اصل حقائق ان کے سامنے رکھے جائیں۔

سانگھڑ پولیس کے مطابق جمعرات کی شب سینکڑوں مشتعل لوگوں کے ایک ہجوم نے ایک عورت کے گھر کا گھیراؤ کیا اور ابھی اس کی رہائش گاہ پر پتھر پھینکے جا رہے تھے کہ پولیس نے مداخلت کی اور عورت کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

سانگھڑ میں مذہبی تنظیموں کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے جمعرات کی شب احتجاج کیا، ٹائر جلائے، سڑکیں بند کیں اور مظاہرے کیے ہیں۔انہوں نے قرآن کی مبینہ بےحرمتی کرنے والی عورت کو سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج کی وجہ سے شہر کے تمام بازار بند ہوگئے ہیں۔

سانگھڑ کے ایک دکاندار محمد صدیق نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اختری بیگم ملک نے ان کی دکان پر قرآن کی مبینہ بےحرمتی کی ہے۔

جبکہ اختری بیگم ملک نے پولیس اور میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ ایک مسلمان خاتون ہیں اور قرآن کی بےحرمتی کا تصور بھی نہیں کرسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس کتاب کی دکاندار بات کر رہا ہے وہ حساب کتاب کا کھاتہ ہے قرآن نہیں ہے۔اختری بیگم پنجابی زبان بولنے والی ہیں اور قریبی گاؤں یعنی چک میں ان کا آبائی گھر ہے۔

پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں سوالات اٹھائے ہیں کہ دکاندار کے بقول عورت نے قرآن کی مبینہ بےحرمتی صبح نو بجے کی ہے تو دکاندار نے شہریوں اور مذہبی کارکنوں کو رات نو بجے تاخیر سے یہ واقع کیوں سنایا ہے۔

پولیس نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ عورت دکاندار کی مقروض تھیں اور دکاندار نے اختری بیگم کے بیان کے مطابق ان کے ذمہ پانچ چھ ہزار اضافی قرضہ لکھ دیا تھا اور ان سے وہ قرضہ ادا کرنے کا تقاضا کرتا رہا مگر اختری بیگم نے انکار کر رکھا تھا۔

سانگھڑ میں مذہبی شدت پسندی باقی صوبہ سندھ سے نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔چند ماہ قبل ایک تیس سالہ قیدی کو توہین رسالت کے الزام میں ضلعی جیل کے اندر لوہے کی سلاخوں اور پستول سے ہلاک کیا گیا تھا۔جبکہ ایک قادیانی رہنما کو بھی چند ماہ قبل قتل کیا گیا تھا۔

سانگھڑ کے ایس پی جانچ عابد قائم خانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بروقت عورت کواپنی تحویل میں لیکر بڑے سانحے کو روکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جانچ دو تین دنوں میں مکمل ہوجائیگی اور مقدمے کا بعد میں فیصلہ کیا جائیگا۔