پنجاب:خواجہ سراؤں کا اندراج شروع

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کی سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کی سماجی حیثیت کے بارے میں ایک درخواست پر حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ ملک میں رہنے والے خواجہ سراؤں کے بارے میں کوائف اکٹھے کرنے کے لیے ان کا اندراج کیا جائے۔
عدالت کے اس حکم پرحکومتی سطح پر خواجہ سراؤں کے اندراج کے لیے آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کام شروع ہوگیا ہے۔ یہ کام صوبائی محکمہ سماجی بہبود کے ذمہ ہے۔
محکمے نے ایک فارم ترتیب دیا ہے جو صوبے کے تمام اضلاع میں محکمے کے ضلعی افسروں کو تقسیم کردیا گیا ہے۔ فارم انگریزی اور اردو زبان میں تیار کیا گیا اور اس میں خواجہ سراؤں کے بارے میں مختلف نوعیت کی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے اٹھارہ ’ کالم‘ بنائے گئے ہیں۔
سروے فارم کے ابتداء میں خواجہ سراء کا نام، عمر اور پیشہ کے علاوہ ماہانہ آمدنی کے بارے میں معلومات پوچھی گئی ہیں۔ فارم میں خواجہ سرا سے ان کی کیفیت کے بارے میں ایک کالم رکھا گیا ہے جس میں ان سے پوچھا گیاکہ آیا وہ پیدائشی طور پر خواجہ سرا ہیں یا پھرحادثاتی اور بیماری کی وجہ سے۔ اسی کالم میں یہ پوچھا گیا کہ ان کو زبردستی خواجہ سرا بننے پر مجبور تو نہیں کیا گیا؟
فارم میں خواجہ سے شناختی کارڈ نمبر کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا ان کا ووٹر لسٹ میں نام موجود ہیں اور انہوں نے کیا ووٹ کا استعمال کیا ہے۔
اسی فارم میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواجہ سرا ہونے کی وجہ سے ان کوکون سی سماجی، معاشی اور نفسیاتی نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں۔فارم میں خواجہ سرا سے ان کے گرو کے نام کے علاوہ یہ بھی سوال کیا گیا کہ وہ گرو کے پاس کیسے پہنچے اور اس وقت خاندان کے ساتھ رہتے ہیں، اکیلے یا پھر گرو کے ساتھ۔خواجہ سراؤں سے فارم کے ذریعے یہ دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا وہ اپنی موجودہ زندگی سے مطمن ہیں؟
ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں پچاس ہزار سے زائد خواجہ سرا ہیں جبکہ محکمہ سماجی بہبود پنجاب کو جو سروے فارم موصول ہوئے ہیں ان کی تعداد صرف پانچ سو کے لگ بھگ ہے۔
خواجہ سراء کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کے پروگرام مینجر داؤد ثقلین کے مطابق صرف سروے فارم کی تقسیم سے خواجہ سراؤں کے اصل اعداد شمار کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول جب سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کے اندراج کا حکم دیا تو اس کے بعد خواجہ سرا اس خوف سے روپوش ہوگئے کہ اب ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
داؤد ثقلین کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے اصل اعداد و شمار جاننے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے اور ان تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اصل اعداد شمار سامنے آئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں جو مردم شماری ہو اس کا حصہ خواجہ سراؤں کو بھی بنایا جائے تاکہ اس طرح ان کی ملک میں تعداد کے بارے میں درست اعداد وشمار حاصل ہوسکیں۔
لاہور میں خواجہ سراؤں کی ایک تنظیم ’ساتھی فانڈیشن‘ کی ٹیم لیڈر نائیلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اب ان کو اپنی شاخت مل جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کا جو عمل شروع کیا گیا ہے اس ضمن میں مدد کے لیے تیار ہیں اور یہ بتاسکتے ہیں کون کہاں رہتا ہے اور اس طرح کوئی خواجہ سرا چھپ نہیں سکےگا۔







