خواجہ سراؤں سے متعلق فیصلے کا خیر مقدم

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم پوئیٹ نے سپریم کورٹ کے اس حکم کا خیرمقدم کیا ہے جس میں حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال جیسی وفاقی اور صوبائی کی امدادی اسکیموں کا فائدہ پہنچایا جائے۔.
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں تاکہ وہ بھی دوسرے شہریوں کی طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں۔
کراچی میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے قائم تنظیم پارٹیسیپیٹری آرگنائزیشن فار ایمپاورمنٹ آف ایم ایس ایم اینڈ ٹرانس جینڈرز (پوئیٹ) کی سیکریٹری جنرل بندیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس حکم سے غربت میں مبتلا خواجہ سراؤں کو فائدہ پہنچے گا۔ ’جو خواجہ سرا مطلب ہے کہ روزگار پر نہیں ہے یا بیمار ہے یا کسی اور پریشانی میں ہے، تو چلو ہر مہینے کچھ رقم ملنے سے ان کا گزارا ہوجائے گا۔‘
تاہم بندیا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کا خواجہ سراؤں کو تبھی فائدہ پہنچے گا جب حکومت ان پر عملدرآمد کرائے گی۔
’حکومت کو اس پر قدم اٹھانا چاہیے لیکن لیتے نہیں ہیں۔ اب دیکھیں پہلے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا جو حکم جاری ہوا تھا اس پر آرڈیننس جاری ہوگیا اور بات وہیں کی وہیں آگئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے لئے جو حکم جاری کیا تھا اس پر بھی صوبائی حکومتوں نے اب تک عملدرآمد شروع نہیں کیا ہے۔
’رجسٹریشن تو کم سے کم شروع ہونی چاہیے۔ ابھی تک تو میرے علم میں نہیں آیا کہ بھئی حکومت کوئی پوچھ گچھ کررہی ہوں کہ ہماری تعداد کتنی ہے اور کتنوں کے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں یا نہیں ہیں۔ ابھی تک مجھ سے تو کسی نے رابطہ نہیں کیا نہ میرے کسی خواجہ سرا سے کسی نے رابطہ کیا ہے۔‘
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ حکم میں کہا ہے کہ آئین کے تحت خواجہ سرا بھی پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں بھی دوسرے شہریوں کی طرح برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بندیا کہتی ہیں کہ حکومت کو مردوں اور خواتین کی طرح سرکاری اداروں میں خواجہ سراؤں کے لئے بھی نوکریوں کا کوٹہ مخصوص کرنا چاہیے اور نجی اداروں کو بھی خواجہ سراؤں کو ملازمتیں دینے کا پابند کرنا چاہیے تاکہ وہ گداگری اور جسم فروشی جیسے کاموں سے بچ سکیں۔







