کوئٹہ میں فائرنگ سے پرنسپل ہلاک

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی صبح نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے گورنمنٹ کالج آف کامرس، کوئٹہ کے پرنسپل مرزا امانت علی بیگ کو ہلاک کردیا۔
اس واقعہ کے بعد اساتذہ نے کوئٹہ کے تمام کالجوں کواحتجاجاً بندکردیا ہے۔
گورنمنٹ کالج آف کامرس، کوئٹہ کے پرنسپل مرزا امانت علی بیگ کو منگل کی صبح اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جب وہ نو بجے کے قریب اپنی گاڑی میں کواری روڈ پر واقع کامرس کالج پہنچے۔
عینی شاہدین کے مطابق وہ کالج کے سامنے گاڑی کھڑی کر رہے تھے کہ اس دوران موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان کے قریب آ کر ان پر پستول سے فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد نامعلوم فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے فوری بعد پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن پولیس کی تاخیر کی وجہ سے پرنسپل امانت علی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔
اس واقعے کے بعد کالج کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے سول ہسپتال پہنچ کر صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے دوگھنٹے تک جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے سڑک پر ٹائر جلائے۔
گورنمنٹ کالج آف کامرس کوئٹہ کے لکچرار رحمت شاہوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ امانت علی پنجاب کے علاقے چیچہ وطنی کے رہنے والے تھے اور پندرہ سال قبل لاہور سے کوئٹہ منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے کوئٹہ میں مختلف سرکاری عہدوں پر رہنے کے بعد تقریباً دس سال قبل گورنمنٹ کالج آف کامرس کوئٹہ میں بطور لکچرار ملازمت شروع کی اور دو ہزار سات سے وہ کالج کے پرنسپل کے عہدے پر فائز تھے۔
مرزا امانت علی کی میت کو منگل کی شام بذریعہ طیارہ اسلام آباد پہنچایا جائے گا جہاں انہیں ان کے آبائی علاقے چیچہ وطنی میں دفن کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان پروفیسراینڈ لکچرار ایسوسی ایشن کی اپیل پر اس واقعہ کے خلاف کوئٹہ کے تمام کالجز منگل کے دن بند کر دیے گئے۔
دوسری جانب سوموار کی رات کو کوئٹہ کے فاطمہ جناح روڈ پر ایک شیعہ رہنماء اور یونین کونسل مری آباد کے ناظم سید طالب آغا سمیت تین افراد کی نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعہ میں ہلاکت کے خلاف انجمن تاجران بلوچستان کی اپیل پرکوئٹہ شہرمیں مکمل شٹرڈاون ہڑتال کی گئی ہے۔
ابھی تک ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی پولیس کو کسی گرفتاری میں کامیابی ملی ہے۔







