سوات طالبان قیمت

سوات
،تصویر کا کیپشنسوات میں حکومت کو مطلوبہ افراد پر کئی کئی لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے

وادی سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ سرحد حکومت نے سکیورٹی فورسز کے خلاف سرگرم اکیس اہم ترین جنگجو کمانڈروں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی ہیں جبکہ ان کمانڈروں کے نام اور تصویریں بھی جاری کئی گئی ہیں۔

سوات کمانڈروں کے نام اور مختصر تعارف درج ذیل ہے۔

مولانا فضل اللہ

مولانا فضل اللہ سوات میں طالبان کے امیر ہیں۔ ان کا تعلق امام ڈھرئی گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ فضل اللہ نے جہانزیب کالج سوات سے انٹرمیڈیئٹ تک تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے داماد بھی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا فضل اللہ نے تین درجے تک دینی تعلیم حاصل کی ہے تاہم وہ زیادہ تر صوفی محمد کی صحبت میں رہے ہیں جہاں وہ درس و تدریس کے کاموں میں شرکت کرتے رہے ۔ اکتوبر دو ہزار ایک میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو مولانا صوفی محمد مالاکنڈ ڈویژن سے ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ جہاد کے لیے افغانستان لے گئے جن میں مولانا فضل اللہ بھی شامل تھے۔ افغانستان سے واپسی پر مولانا فضل اللہ گرفتار ہوئے اور تقریباً سترہ ماہ تک جیل میں رہے۔

انہوں نے سن دوہزار پانچ اور چھ میں سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینل کا آغاز کیا جس کی وجہ سے انہیں بہت کم عرصہ میں لوگوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مولانا فضل اللہ ایک پاؤں سے معمولی معزور بھی ہیں۔

حاجی مسلم خان

مسلم خان

مسلم خان سوات میں طالبان کے موجودہ ترجمان ہیں۔ ان کا تعلق طالبان کے گڑھ کہلانے والے علاقے کوزہ بانڈئی سے بتایا جاتا ہے۔ مسلم خان چار پانچ سال امریکہ میں بھی رہے ہیں جہاں وہ پینٹ (رنگ) بنانے والی ایک کمپنی میں ملازم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کو پانچ زبانوں، پشتو، اردو، انگریزی، فارسی اور عربی پر عبور حاصل ہے۔

سراج الدین

سراج الدین سوات میں طالبان کے سب سے پہلے ترجمان تھے۔ ان کا تعلق گاؤں امام ڈھرئی سے ہے۔ وہ اہم پہاڑی علاقے مالم جبہ کے کمانڈر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سراج الدین گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے اور ان کے وزیرستان کے طالبان سے مضبوط مراسم بھی رہے ہیں۔ وہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سراج الدین نے سوات اور وزیرستان کے طالبان کے مابین قریبی تعلق بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سراج الدین اکثر اوقات ان معاملات سے منسلک رہے ہیں جہاں سے طالبان کو مالی فوائد حاصل ہوتے رہے ہیں۔ وہ سوات میں زمرد کے کانوں کے انچارج بھی ہیں جبکہ پہاڑی علاقہ مالم جبہ بھی ان کے کنٹرول میں ہے جہاں اطلاعات کے مطابق جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی گئی ہے۔

اکبر حسین

اکبر حسین طالبان کا گڑھ کہلانے والے علاقے تحصیل کبل کے کمانڈر ہیں۔ ان کا شمار مولانا فضل اللہ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

شاہ دوران

کمانڈر شاہ دوران مولانا فضل اللہ کے نائب ہیں۔ وہ مینگورہ شہر کے علاقے قمبر کے رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ شاہ دوران طالبان تحریک میں شامل ہونے سے پہلے مینگورہ میں محنت مزدوری کرتے تھے۔

مئی دوہزار آٹھ میں جب سوات میں صوبائی حکومت اور طالبان کے مابین پہلی مرتبہ امن معاہدہ طے پایا تو شاہ دوران نے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینل پر تقرروں کا آغاز کیا۔ مولانا فضل اللہ کے بعد وہ ایف ایم پر سب سے زیادہ سنائی دیے جاتے ہیں۔ وہ اکثر اوقات ایف ایم چینل پر لوگوں کے نام لے کر ان کو قتل کی دھمکیاں دیتے تھے۔ سوات میں طالبان کی جانب سے اہم اعلانات کرنا بھی ان کے ذمہ داری تھی۔

محمود خان

محمود خان تحصیل کبل کے رہنے والے ہیں۔ ان کا تعلق ایک امیر گھرانے سے بتایا جاتا ہے۔ سوات میں فروری دو ہزار نو میں امن معاہدہ طے پایا تو طالبان نے انہیں مقامی انتظامیہ سے رابطے رکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی اور اہم افسران سے رابطے کرکے لوگوں کے مسائل حل کراتے تھے۔ سوات معاملات کے حوالے سے وہ اکثر اوقات سابق کمثنر مالاکنڈ ڈویژن سید محمد جاوید کے ساتھ رہتے تھے جبکہ وہ سرکاری میٹنگز میں میں بھی شرکت کرتے تھے۔ ان کے مینگورہ شہر میں کپڑے کی ایک دوکان بھی تھی۔

نثار احمد

ان کا تعلق دم غر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ وہ مئی دوہزار آٹھ میں ہونے والے امن معاہدے میں طالبان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے رکن تھے۔

میاں گل غفور

میاں گل غفور طالبان کے اہم گڑھ براہ بانڈئی کے کمانڈر بتائے جاتے ہیں۔ وہ سوات میں طالبان عدالت کے معاون قاضی بھی رہ چکے ہیں۔

بخت فرزند

وہ تحصیل مٹہ کے ایک غیر معروف کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے سر پر تیس لاکھ کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔

لعل دین عرف بڑے میاں

لعل دین عرف بڑے میاں طالبان کے مرکز کہلانے والے پہاڑی علاقے گٹ پیوچار کے رہنے والے طورو بانڈئی کے کمانڈر ہیں۔ 1994میں جب مولانا صوفی محمد نے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے حصول کےلیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تو لعل دین بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے ٹی این ایس ایم کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے اہم کمانڈروں کو گٹ پیوچار میں پناہ دی تھی۔ سوات میں فضل اللہ نے حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تو بڑے میاں بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ ان کا تعلق گجر قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

شیر محمد قصاب

ان کا تعلق چار باغ سے بتایا جاتا ہے جہاں وہ عسکریت پسندوں کے کمانڈر بھی ہیں۔ ان پر انعامی رقم دس لاکھ رکھی گئی ہے۔

ابن امین

ابن امین سوات میں طالبان کے اہم آپریشنل کمانڈر ہیں۔ وہ نمل کے کمانڈر بتائے جاتے ہیں اور ان کا تعلق تحصیل مٹہ سے ہے۔ وہ سوات میں خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ بتائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ دو سال تک جیل میں بھی رہے ہیں۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ ان کے گروپ کے چند افراد سابق صدر پرویز مشرف پر ہونے والے ایک حملے میں ملوث تھے۔ ابن امین سوات میں سخت گیر موقف کے حامل عسکریت پسند کمانڈر سمجھے جاتے ہیں اور وہ امن معاہدوں کے بھی مخالف رہے ہیں۔ وہ ایک مشہور کالعدم جہادی تنظیم سے بھی منسلک رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حالیہ سوات آپریشن میں تحصیل مٹہ میں ابن امین کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا جس میں ان کے بھائی ابن عقیل ہلاک ہوگئے۔ تاہم طالبان ذرائع سے اس ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس کے علاوہ اشتہار میں چند غیر معروف عسکریت پسند کمانڈروں کے نام بھی دیے گئے ہیں جن میں انور اللہ عرف انور، سلطان حسین، رشید احمد، لیاقت، اور شہنشاہ آف شاہ ڈھیرئی شامل ہیں ۔