صوفی محمد: پہلے اور اب

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں کرنے والے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد نے بظاہر ناامید ہوکر پائیدار امن کے قیام کی کوشش ترک کر دی ہے۔
دیر، بونیر اور سوات کے اضلاع میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی سے قطع نظر وہ آج کل امان درہ میں تنظیم کے مرکزی دفتر میں اپنے کارکنوں کے درمیان بیٹھے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ باہمی مشاورت ہوتی ہے، تنظیمی امور پر بات ہوتی ہے اور بس۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا صوفی محمد سے امید رکھنا شروع ہی سے خام خیالی تھا لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے نزدیک وہ اب غیر موثر نہیں بلکہ زیادہ پرُاثر ہوگئے ہیں۔
تاہم ان کے ترجمان امیر عزت خان نے تسلیم کیا کہ حکومت سے ان کے تمام رابطے منقطع ہیں اور وہ صورتحال کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنگی جہاز میں سوار اور زمین پر بیٹھے آدمی کے درمیان رابطہ نہیں ہوسکتا ہے۔
'ابھی تو امریکہ کو بچانے اور پختون کو بحثیت قوم ختم کرنے کے لیے ڈالر مل رہے ہیں اور یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ جب امریکہ خوش ہوجائے تو پھر شاید حالات قابو ہو جائیں گے‘۔
البتہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ نظام عدل کا نفاذ شدت پسندوں کا مقصد نہیں تھا بلکہ وہ تو متوازی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا صوفی محمد سے بطور ثالث بات کرنا انتہائی مشکل تھا کیونکہ وہ بات بات پر مذاکرات سے اٹھ کر چل پڑتے تھے۔
سرحد حکومت اور مولانا صوفی محمد کے درمیان اس سال فروری میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت طے پایا تھا کہ نظام عدل کے قیام کے بدلے تحریک نفاذ شریعت محمدی پائیدار قیام امن میں حکومت کی مدد کرے گی۔
آج سے ایک برس قبل تک مولانا صوفی محمد غیراہم مذہبی رہنما کی صورت ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں اپنے دن گن رہے تھے۔ پھر سوات کا مسئلہ پیدا ہوا تو حکومت کو ان کا خیال آیا اور انہیں دوبارہ فعال کرکے ان کے ساتھ امن معاہدہ کیا۔ اس وقت بھی یہ خدشات ظاہر کیئے جا رہے تھے کہ وہ شدت پسندوں پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینئر صحافی سلیم صافی کہتے ہیں کہ مولانا صوفی محمد نے انہیں اپنی اسیری کے دنوں میں ایک مکتوب میں واضح کیا تھا کہ ان کا مولانا فضل اللہ اور مولانا فقیر محمد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ان کی پرتشدد جدوجہد کو تسلیم نہیں کرتے۔ لہذا وہ اپنی سی ایک کوشش ضرور کرسکتے ہیں انہیں پرامن راستہ پر لانے کی۔
’حکومت کی ان سے توقع تو ختم ہوگئی کیونکہ انہوں نے اسی کے خلاف فتوی دے دیا ہے لیکن اس ساری صورتحال میں مولانا مالاکنڈ کی سیاست میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ ماضی کی نسبت ایک مرتبہ پھر موثر ہوگئے ہیں۔ ان کی تنظیم بھی زیادہ متحرک ہوگئی ہے اور سوات کے طالبان سے بھی ان کا ایک تعلق بن گیا ہے‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ اگر مولانا صوفی محمد حکومت سے اتنے نالاں ہیں تو چپ سادھ کر بیٹھنے کی بجائے بہتر نہیں تھا کہ دباؤ ڈال کر حکومت کو فوجی کارروائی سے روکا جاسکے تو امیر عزت خان کا جواب تھا کہ جب باپ یعنی حکومت اپنے بچوں کو مارنے لگے تو اس سے کون بات کرسکتا ہے۔
'اس سے بہترہوتا اگر حکومت مالاکنڈ کے تمام لوگوں کو ایک میدان میں اکھٹا کرکے ان پر سپرے کر دیتی تو اتنی تکلیف حکومت کو بھی نہ ہوتی اور امریکہ بھی خوش ہو جاتا‘۔
ان سے دریافت کیا گیا کہ ابتدا سے مولانا صوفی محمد کے بارے میں تاثر تھا کہ ان کی نہ تو حکومت اور نہ ہی طالبان پر چلتی ہے لہذا وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوں گے تو ترجمان کا کہنا تھا کہ جب حکومت مصالحت کار کو بتائے بغیر بمباری شروع کر دے تو ثالثی تو خود بہ خود ختم ہو جاتی ہے۔
تاہم اس بات پر شاید ہی کسی کو اب اختلاف ہو کہ سرحد حکومت نے مولانا صوفی محمد کا جو کارڈ کھیلا تھا وہ ان کے حق میں نہیں گیا۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ گزشتہ دو ماہ کی صورتحال سے شدت پسندوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع بھی ملا۔ دوسری جانب حکومت کے حصے میں ان کے خیال میں ناکامی ہی آئی ہے۔
'مولانا صوفی محمد امن معاہدے کی ناکامی کی ذمہ داری بھی حکومت پر ڈال رہے ہیں لہذا حکومت کو ناکامی اور عوام کو مزید پریشانی ہی نصیب ہوئی ہے۔ اگر فائدہ ہوا ہے تو صرف شدت پسندوں کو‘۔







