سوات کے عوام طالبان کے خلاف کھڑے ہونے پر کیوں مجبور ہوئے؟

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’اپنے بے گناہ بھائی کے قتل کا سُن کر خون کھول اٹھا تھا۔ لاش کو سڑک پر رکھ کر اس لیے احتجاج کیا کہ بس اب بہت ہو چکا، اب بے گناہوں کے قتل کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ احتجاج حکومت کے اس معاہدے پر ختم کیا کہ بھائی کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے گا، اس کی یتیم کم عمر بچیوں کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا اور خاندان کو دیت ادا کی جائے گی۔‘

یہ کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو سوات کے علاقے گلی باغ میں سکول کے بچوں کی وین پر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور حسین احمد کے چھوٹے بھائی اسرار احمد کا۔

اسرار احمد کہتے ہیں کہ ’ہم نے بھائی کے قتل پر دو دن تک سٹرک پر لاش رکھ کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں سوات کے اتنے لوگ شریک ہوئے کہ میں بتا نہیں سکتا۔ اس وقت لوگ یہ ہی کہہ رہے تھے کہ بات اب ایک بار پھر ہمارے گھروں اور بچوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب ہم چپ نہیں رہیں گے۔‘

اس سے قبل سوات کے لوگ شدت پسندی کے خلاف بات نہیں کرتے تھے مگر اب لگتا ہے کہ سوات کے لوگوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ دوبارہ شدت پسندی اور دہشت گردی کو اپنے علاقے میں واپس آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سوات سے سابق خاتون ممبر قومی اسمبلی اور سوشل ورکر مسرت احمد زیب کہتی ہیں کہ ’اب سوات بدلا بدلا سا ہے۔ یہ اب ماضی جیسا سوات نہیں رہا جس میں لوگوں نے اپنے بچوں کے جنازے اٹھانے کے علاوہ اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کی تھی۔‘

حالیہ دونوں میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جنھوں نے سوات والوں کو بظاہر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک واقعہ میں باپ بیٹے کے مبینہ قتل کو دہشت گردی کے واقعے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی جبکہ دوسرے واقعے میں بچوں کی سکول وین پر حملہ کیا گیا۔

’ہمیں بھی جنت جانا ہے‘

اسرار احمد بتاتے ہیں کہ اُن کے مقتول بھائی حسین احمد نے سوگوران میں دو کم عمر بچیاں اور بیوہ چھوڑی ہیں۔

’دونوں بیٹیاں اپنے باپ کی بہت لاڈلی تھیں۔ حسین کی بیوہ واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ہمارے والد کی حالت قابل دید ہو چکی ہے، وہ پہلے ہی بیمار رہتے تھے مگر اس واقعے نے تو ان میں رہی سہی ہمت بھی ختم کر دی ہے۔‘

اسرار احمد کا کہنا تھا کہ ’بچیوں کو تو نہیں پتا کہ اُن کے باپ کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ وہ پوچھتی ہیں کہ بابا کدھر ہیں تو اُن کو کسی نے کہہ دیا ہے کہ بابا جنت چلے گئے ہیں۔ اب وہ بچیاں بھی اٹھتے بیٹھتے کہہ رہی ہیں کہ ہمیں بھی جنت میں جانا ہے۔‘

سوات میں حالیہ عرصہ میں احتجاج کو منظم کرنے والی تنظیم ’سوات اولسی پاخون‘ (یعنی سوات بیداری تحریک) کے رہنما عطا اللہ جان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ سکول وین پر حملے اور باپ بیٹے کے قتل سے پہلے جب شدت پسندی اور طالبان کی واپسی کی باتیں ہوتی تھیں تو لوگ عموماً اس پر بات نہیں کرتے تھے۔

’ہر کوئی یہ کہتا تھا کہ خاموشی بہتر ہے کیونکہ کچھ پتہ نہیں کہ کون کب ٹارگٹ بن جائے۔‘

عطا اللہ جان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’جب یہ دو واقعات ہوئے تو سوات کے نوجوان، سیاسی کارکن، سوشل ورکرز، تاجر، وکلا، ڈاکٹر۔۔۔ غرض ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ اکھٹے ہوئے اور ہر ایک نے محسوس کیا کہ اس موقع پر اکھٹے ہو کر بات نہ کی تو ایک بار پھر چند سال کی طرح ہر گھر اور علاقے سے جنازے اٹھیں گے۔ ناحق قتل ہونے والوں کو شہید قرار دے کر تباہی و بربادی شروع کر دی جائے گئی۔‘

’جس پر ہم لوگوں نے مل کر سوشل میڈیا پر احتجاج کی کال دی جس کے نتیجے میں چند دن پہلے مینگورہ کے نشاط چوک پر سوات کی تاریخ کا سب بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا اور اب بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔‘

’اب تاریخ نہیں دہرائی جائے گئی‘

مسرت احمد زیب کہتی ہیں کہ ’میں اور ہمارے لوگ چند سال پہلے ہونے والی شدید ترین دہشت گردی میں بھی سیدو شریف (مینگورہ) میں اپنی رہائش گاہ میں قیام پزیر تھے حلانکہ ہمارے پاس اتنے وسائل تھے کہ ہم کسی بھی دوسرے شہر جا سکتے تھے۔ اب بھی میں سیدو شریف مینگورہ ہی میں رہائش پزیر ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چند سال قبل سوات میں جب دہشت گردی کا طوفان آیا اور آپریشن شروع ہوا تو اس وقت سوات کے لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر جانیں بچانے کے لیے پناہ گزین بننا قبول کیا۔ اپنے گھر بار ہوتے ہوئے دوسرے علاقے میں جا کر کیمپوں میں زندگی بسر کرنے کا تجربہ ایسا تھا کہ وہ لوگ اب تک نہیں بھول سکے ہیں۔‘

مسرت احمد زیب کا کہنا تھا کہ ’اب جب دوبارہ دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے تو سوات کے لوگوں کو احساس ہو چکا ہے کہ اس کا حل ایک بار پھر کسی آپریشن اور اس کے نتیجے میں اپنے گھر بار اور مال و اولاد قربان کرنا نہیں ہے بلکہ اپنا حق لینا ہے۔‘

عطا اللہ جان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ تحریک رُک جائے گئی تو ایسا نہیں ہے۔ نشاط چوک مظاہرے کے بعد اب نشاط چوک مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ وہاں پر روزانہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ ہی نہیں نوجوان گلی محلوں، دیہاتوں میں پھیل چکے ہیں جو مختلف مقامات پر کارنر میٹنگز اور چھوٹے بڑے جلسے کر کے لوگوں کو منظم کر رہے ہیں۔‘

’تاریخ سے سبق لیا ہے‘

عطا اللہ جان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ’اس تحریک کی قیادت اس وقت نوجوانوں کے پاس ہے جن کے کوئی خاص سیاسی نظریات نہیں ہیں۔ یہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں، یہ وہی نوجوان ہیں جنھوں نے اپنا بچپن کیمپوں میں گزارا ہے۔ جنھوں نے اس سے پہلے آگ اور خون کا کھیل دیکھا تھا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک پڑھی لکھی نسل ہے جس نے پڑھ اور سمجھ لیا ہے کہ تاریخ کا سبق ہے کہ جب تک اپنے حق کے لیے خود نہیں اٹھو گے اس وقت تک مقدر میں تباہی اور بربادی ہی لکھی جائے گئی۔ یہ نوجوان اچھے سے سمجھ چکے ہیں کہ سوات ان کا ہے اور وہ ہی سوات کے مالک ہیں اور سوات میں امن کے ساتھ ترقی ان کا حق ہے۔‘

مالاکنڈ تاجر ایسوسی ایشن کے رہنما عبدالرحیم دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں اور کئی لوگوں کو بھتہ کی دھمکیاں مل چکی ہیں مگر اب وقت بدل چکا ہے۔ ’اب کی بار ایک نیا اور بدلا ہوا سوات ہے۔‘

جہانزیب کالج سیدو شریف سوات کے طالبعلم ہادی خان کہتے ہیں کہ ’اپنی ہی سرزمین پر خوف کی حالت میں زندگی گزارنا ہمیں قبول نہیں ہے۔ آج طالب علموں کی ایک وین نشانہ بنی ہے، کل کو میرا کالج اور یونیورسٹی بھی بن سکتی ہے۔ میرے گھر کو بھی اجاڑا جا سکتا ہے، یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب سے سوات کے حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوئے ہیں، سوات کے تعلیمی اداروں میں روزانہ ہی طالب علموں کے درمیاں بات ہوتی تھی کہ کیا اس صورتحال کو برداشت کر لیں یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے؟‘

’طالب علموں کے کئی دن تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد تقریبا تمام ہی طالب علم،طلبا تنظیمیں اس بات پر متفق تھیں کہ ہمیں مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہے۔‘

ہادی خان کہتے ہیں کہ ’اس کے لیے ہم نے پُرامن مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ جب باپ بیٹے قتل ہوئے تو ان کے جنازے کے احتجاج میں بھی طالب علم اور نوجوان شریک ہوئے اور جب سکول وین ڈرائیور کا جنازہ ہوا تو اس احتجاج میں بھی شریک تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ہم نے پر امن احتجاج کو اپنی مزاحمت بنا لیا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک امن قائم نہیں ہو جاتا۔‘

عبدالرحیم کہتے ہیں کہ ’ہم نے سوات کو اجڑتے دیکھا اور پھر ہم نے دوبارہ اس کو اپنے خون پسینے سے بسایا ہے۔ ہمیں اپنے کھیت کھلیان، بازار، سیاحتی مقامات اور رونقیں بحال کرنے میں کئی سال لگے تھے۔ ہم ابھی اس سانحے ہی سے باہر نہیں نکلے کہ ایک اور سانحہ کی نوید سنائی جا رہی ہے۔‘

’گذشتہ دو، تین برسوں سے اس موسم میں سوات کے اندر سیاحوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ اب اس سال شدت پسندی کے ساتھ ہی سوات سیاحوں سے خالی ہو چکا ہے۔ ہوٹل خالی پڑے ہیں۔ بازاوں میں سیاح نظر نہیں آتے۔ سوات کے لوگ ایک بار پھر بے روزگار ہو چکے ہیں۔‘