سوات میں احتجاج: ’یہ 2010 نہیں ہے، ہم اپنا شہر، اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے‘

'ایشیا کے سوئٹزرلینڈ کو ہماری ریاست جہنم بنانے کی پالیسیاں اپنا چکی ہے۔ ہم ریاست سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس شناختی کارڈ ہے، ہم آئین مانتے ہیں، قانون مانتے ہیں، پاکستان مانتے ہیں، ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان ہم کو مانے۔‘

سوات کے علاقے مینگورہ میں آج پورا دن لوگوں کا جمِ غفیر موجود رہا ہے اور یہاں لوگ حالیہ کچھ عرصے کے دوران دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ایک عام شہری نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ سے بات کی تو ان کے جذبات عیاں تھے۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’آئین میں جو حقوق لاہور کے لیے ہیں، راولپنڈی کے لیے ہیں، جو جرنیل کے لیے ہیں، جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے ہیں، وہ سوات کے ہر شہری کے لیے ہیں۔‘

اور ایسے ہی تاثرات ان جیسے دیگر عام شہریوں کے بھی تھے۔ امن کے قیام کا مطالبہ کرنے والا پلے کارڈ اٹھائے ایک طالبعلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب امن کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، یہ 2010 نہیں ہے کہ آپ کو دیکھ کر ہم بھاگ جائیں گے۔

’ہم سب کو واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ہم اپنا شہر، اپنا ملک، اپنی مٹی نہیں چھوڑیں گے۔‘

خیال رہے کہ چند روز قبل سوات کے علاقہ چارباغ میں ایک سکول وین پر حملہ ہوا تھا جس کے باعث وین کا ڈرائیور ہلاک اور دو بچے زخمی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے مینگورہ بائی پاس پر دو افراد ہلاک ہوئے تھے جنھیں سکیورٹی فورسز نے ٹی ٹی پی کا حصہ جبکہ لواحقین کا دعویٰ ہے کہ یہ لین دین کا معاملہ تھا جس کے بیچ میں سکیورٹی اہلکاروں نے مداخلت کی تھی۔

اس سے قبل سوات امن لشکر کے سابق سربراہ اور اپنے علاقے کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ادریس خان ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

مینگورہ میں ہونے والے احتجاج میں سیاسی و سماجی کارکنان بھی موجود تھے جو یہاں موجود افراد سے خطاب کر رہے تھے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے اس موقع سٹیج سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنا مؤقف درہراتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ 20 سالوں سے جو ظلم، جبر اور بربریت جاری ہے، یہاں پہلے بد امنی پیدا کی جاتی ہے اور پھر سکیورٹی کے نام پر ظلم جبر ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب ان واقعات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور یہ دہشتگردی کی نئی لہر جو یہاں پر شروع کر دی گئی ہے، یہ ہمارے ذہنوں میں ’ڈالری‘ جنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ہمیں بہت زیادہ افسوس ہے کہ بچوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو انتہائی سفاکی ہے۔ ہم اپنی سرزمین پر کسی بھی صورت یہ جنگیں اور دہشتگردی برداشت نہیں کر سکتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مظاہرے میں موجود عام شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کی معیشت بیٹھ چکی ہے، کل کا واقع آپ لوگوں نے دیکھا ہے، بچے سکول کے لیے نہیں جا سکتے اس کو راستے میں ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ سویلین لوگوں پر اس وقت سخت خوف و دہشت بنی ہوئی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس مظاہرے میں جو چیز خاصی عیاں ہے وہ یہ کہ سنہ 2009 کے تجربے سے سبق سیکھنے کے بعد عام لوگ سامنے آئے ہیں، اور وہ نہیں چاہتے کہ اس قسم کے واقعات دوبارہ سوات میں ہوں جس کی وجہ سے ان کی معیشت کو نقصان پہنچے، سیاحت کو نقصان پہنچے جس پر سوات زیادہ انحصار کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس لیے یہ لوگ اس دور کو واپس آتا نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت اور ریاست انھیں سکیورٹی فراہم کرے تاکہ اس طرح کے واقعات یہاں پر نہ ہوں۔