کیچ میں سکول کو آگ لگانے کا واقعہ: ’لوگ کہتے ہیں ہم سکول بند نہیں ہونے دیں گے‘

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

’ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے سکول کو کیوں نذر آتش کیا گیا اور جلانے والوں کے مقاصد کیا ہیں۔ ہمارا مقصد تو صرف بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے میں بچوں کو معیاری تعلیم دینا ہے۔‘

یہ کہنا تھا کلکشاں سکول کے ڈائریکٹر محمد عارف بلوچ کا جن کے نجی مڈل سکول کی عمارت کو نامعلوم افراد نے 17 اکتوبر کی شب نذر آتش کر دیا جس سے دو کمروں میں موجود فرنیچر اور سامان جل گیا۔

یہ سکول پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران سے متصل ضلع کیچ کے علاقے الندور میں واقع ہے۔

اس واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع کیچ بشیر احمد بڑیچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے محرکات تاحال سامنے نہیں آئے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔‘

محمد عارف بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے لوگوں نے اس واقعے کے خلاف ایک جرگہ منعقد کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سکول کو بند نہیں ہونے دیں گے۔

اس علاقے میں اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے جسے کیچ سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی میر ظہور بلیدی مکران ڈویژن کو تعلیم کے میدان میں پیچھے دھکیلنے کی ایک سازش قرار دیتے ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

محمد عارف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سکول ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔

سکول میں آگ لگنے کی اطلاع جس وقت ان تک پہنچی رات کے تین بج رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم جلدی سے جب وہاں پہنچے تو آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔‘

’الندور میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے اس لیے ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کو بجھانے کی کوشش کی۔ سکول میں موجود موٹر چلا کر آگ پر پانی پھینکا گیا اور اس طرح آگ تو بجھ گئی لیکن سکول کو کافی نقصان پہنچا۔‘

سکول کے دو کمروں میں موجود فرنیچر اور دیگر سامان اس وقت تک تباہ ہو چکا تھا۔ اس آگ سے ایک اور کمرہ بھی متاثر ہوا۔

’کھوجیوں کی مدد بھی لی‘

محمد عارف بلوچ نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ’ہم نے اپنے طور پر ان لوگوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جنھوں نے سکول کو نذر آتش کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’علاقے کے کھوجیوں کو بلایا گیا جنھوں نے پاﺅں کے نشانات تو تلاش کر لیے لیکن ان سے سکول کو جلانے والوں کا پتہ لگانے میں کامیابی نہیں ملی۔‘

اس واقعے کے بارے میں مقامی حکام کو آگاہ کیا گیا جس کے بعد لیویز فورس بلیدہ کے تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔

الندور کے علاقے میں کلکشاں سکول کی بنیاد 2016 میں رکھی گئی تھی۔ اس وقت اسے مڈل سکول کا درجہ حاصل ہے۔

عارف بلوچ نے بتایا کہ سکول میں پڑھنے والے طلباء کی مجموعی تعداد 316 ہے جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ’چونکہ سکول کو حال ہی میں مڈل کا درجہ ملا ہے اس لیے اس میں ابھی تک ساتویں کلاس تک کے بچے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس سکول میں ایک لینگویج سینٹر بھی فعال ہے ہے جس سے طلبا بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں۔ ’محدود وسائل میں ہم کم فیس پر دوردراز کے ایک علاقے میں بچوں کو معیاری تعلیم دینے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

’ہمیں کوئی دھمکی نہیں ملی‘

سکول کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ضلع کیچ اور مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں پہلے بھی سکولوں کو جلانے کے واقعات پیش آئے لیکن ’ہمیں کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ کسی پر شک کا بھی اظہار نہیں کر سکتے۔

’اس واقعے کے بعد ہم پریشان ہوئے اور سکول کو بند کرنے کا سوچا، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اس واقعے کے بعد سکول کھولنے کی صورت میں کوئی بچوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ تاہم علاقے کے لوگوں نے کہا کہ وہ اسکول کو بند نہیں ہونے دیں گے۔‘

محمد عارف کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد منگل سے سکول میں دوبارہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جا چکا ہے اور پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق بچوں کے ششماہی امتحان کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان اسمبلی اجلاس میں بھی سکول جلانے کے واقعے کی باز گشت

الندور میں سکول کو جلانے کے واقعے کی بازگشت بلوچستان اسمبلی کے پیر کے روز کے اجلاس میں بھی سنائی دی۔

پوائنٹ آف آرڈر پر ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی میر ظہور بلیدی نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ’درسگاہیں کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوتی ہیں کیونکہ ان سے نئی نسل کی تربیت ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی دو سکولوں کو جلایا گیا لیکن ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے ضلع کیچ سے متصل پنجگور میں پرائیویٹ سکولوں پر حملے ہوئے اور ان کے منتظمین کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔‘

ظہور بلیدی نے کہا کہ مکران ڈویژن میں مڈل کلاس کے لوگ رہتے ہیں جہاں لوگ معاشی اور سماجی طور پر خود مختار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مکران میں تعلیم کا اچھا ماحول بنا ہوا ہے جس کے باعث مکران ڈویژن میں تعلیم کی شرح بلوچستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ پاکستان بھر میں یہ آٹھویں پوزیشن پر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک عام واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچھی سمجھی سازش لگ رہا ہے۔‘

ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی بابر موسیٰ خیل نے اس واقعے پر متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

بلیدہ کے تحصیلدار فاروق بلوچ نے بتایا کہ اس واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی تین دفعات (34 ،427 اور 436) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع کیچ بشیر احمد بڑیچ نے بتایا کہ ’اس واقعے کے محرکات تاحال سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور ’ہماری کوشش ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے ان کو قرار واقعی سزا دلائی جائے۔‘