پاکستان میں سیلاب سے سڑکیں تباہ: بلوچستان کا وہ علاقہ جہاں ایک ماہ بعد اونٹوں پر راشن پہنچایا گیا

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے ضلع صحبت پور سے تعلق رکھنے والے علی اصغر ہانبھی کی لاش کو تدفین کے لیے 12کلومیٹر دور لے جانا پڑا کیونکہ ان کے گھر کے قریب خشک زمین نہ ہونے کی وجہ سے تدفین ممکن نہیں تھی۔

ان کے ایک قریبی رشتہ دار نورحسن نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’18سالہ علی اصغر سم شاخ کے علاقے سے کچھ سامان نکالنے گئے تھے جہاں وہ دو دیگر لڑکوں کے ساتھ سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔

’دوسرے دو لڑکوں کو پی ڈی ایم اے والوں نے ریسکیو کیا لیکن علی اصغر کو زندہ نہیں نکالا جا سکا بلکہ ان کی لاش برآمد ہوئی۔‘

نورحسن کا کہنا تھا کہ خشک زمین کی تلاش میں علی اصغر کی لاش کو 12 کلومیٹر دور لے جایا گیا اور وہاں ضلع ڈیرہ بگٹی کے قریب حیردین کے علاقے میں سپرد خاک کیا گیا۔

صحبت پور بلوچستان کا وہ علاقہ ہے جس کا حکام کے مطابق اس کا نوے فیصد علاقہ سیلابی پانی میں ڈوب گیا جس کے باعث نہ صرف متعدد اندرونی علاقے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں بلکہ اس کا دوسرے اضلاع سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

نہ صرف صحبت پور بلکہ بلوچستان کے بعض دیگر اضلاع کے ایک دوسرے سے رابطے سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے منقطع ہو گئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں سڑکوں کو ایسا نقصان پہنچا ہے جیسے کہ وہاں کبھی پختہ سڑکیں بنی ہی نہ ہوں۔

حکام کے مطابق رابطہ سڑکوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ لسبیلہ اور آواران کے ایک سرحدی علاقے کے لوگوں کو تیس دن سے زائد کے عرصے کے بعد اونٹوں پر راشن پہنچایا جا سکا۔

رابطہ سڑکوں کے منقطع ہونے سے نہ صرف آٹے اور دیگر اشیا خوردونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے بلکہ کاشتکاروں اور فریش فروٹ سے وابستہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے اندرونی رابطہ سڑکوں کی بحالی کے علاوہ بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان کے وہ کون سے اضلاع ہیں جہاں رابطہ سڑکیں زیادہ متاثر ہیں؟

سیلاب سے بلوچستان کے جن اضلاع کے ایک دوسرے سے یا اندرونی طور پر ان کے ایک علاقے کے دوسرے علاقوں سے رابطے منقطع ہوئے ہیں ان میں صحبت پور، نصیرآباد، جھل مگسی، جعفر آباد اور کچھی کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ شامل ہیں۔

ان میں رابطوں کے حوالے سے سب سے زیادہ مسئلہ جھل مگسی اور صحبت پور میں ہے۔

صحبت پور کے ڈپٹی کمشنر عظیم جان دمڑ کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث اس کا نوے فیصد علاقہ سیلابی ریلے میں ڈوب گیا ہے۔

جھل مگسی کے مقامی صحافی غلام قادر کھوسہ نے بتایا کہ ضلع میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ڈیرہ اللہ یار سے صحبت پور تک پختہ روڈ کے ذریعے چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے سفر ممکن نہیں بلکہ ٹریکٹر یا دیگر بڑی گاڑیوں کے ذریعے آمدورفت ہو سکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک اور راستہ جس کے ذریعے سے صحبت پور تک سفر کیا جا سکتا ہے وہ ڈیرہ بگٹی اور حیر دین کا ہے۔

غلام قادر کھوسہ کا کہنا تھا کہ رابطہ سڑکوں کے متاثر ہونے سے صحبت پور میں خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

’میں مارکیٹ میں سبزی خریدنے گیا تو پیاز دو سو روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا تھا جبکہ ٹماٹر کا فی کلو تین سو روپے میں تھا۔‘

صحبت پور کی طرح اس سے متصل جعفر آباد کے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں جس کے باعث اس کے بعض علاقوں کے رابطے ایک دوسرے سے منقطع ہوئے ہیں۔

محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایک آفیسر نے بتایا کہ جعفر آباد میں گنداخہ کا علاقہ مکمل طور پر زیر آب آ گیا ہے اور اس کے تمام علاقوں سے رابطہ منقطع ہونے سے اب تک ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گنداخہ میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایک ہفتے سے پھنسی ہوئی ہے اور ان کو ریسکیو کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔‘

اہلکار نے بتایا کہ ’رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث اس علاقے میں خوراک کی شدید قلت ہے۔‘

اوستہ محمد سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سکول ٹیچر علی گل پندرانی نے بتایا کہ ’اگرچہ ابھی تک خود اوستہ محمد شہر زیر آب نہیں آیا لیکن اوستہ محمد اور ڈسڑکٹ ہیڈکوارٹر ڈیرہ اللہ یار کے درمیان روڈ سیلاب کی وجہ سے بند ہے۔‘

صحبت پور کی طرح ضلع نصیر آباد کے ایک اور ضلع جھل مگسی میں رابطہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے صورتحال سنگین ہے۔

جھل مگسی کے مقامی صحافی عبدالحمید لاشاری نے بتایا کہ ’جھل مگسی میں تو ایک مہینے سے صورتحال خراب ہے۔ اس کے ہیڈکوارٹر میں ٹماٹر اور پیاز نہیں مل رہے اور آٹا بھی ناپید ہے۔ لوگوں کا خوراک کے لیے انحصار چاول اور دال پر ہے۔‘

چار ہفتے بعد اونٹوں پر راشن پہنچایا گیا

نصیر آباد ڈویژن کی طرح قلات ڈویژن میں لسبیلہ، خضدار اور آواران کے اضلاع میں بھی رابطہ سڑکیں منقطع ہونے سے صورتحال خراب ہے۔

لسبیلہ میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رابطہ سڑکیں منقطع ہونے سے لسبیلہ، آواران اور گوادر کے اضلاع کے سنگم پر واقع ڈانڈیل کے علاقے اور اس سے متصل دو تین دیہات میں ’نوبت فاقوں تک پہنچی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ علاقہ پورالی ندی اور ہنگول ندی میں سیلاب کے وجہ س کٹ گیا ہے اور وہاں صورتحال انتہائی سنگین ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خبر آنے کے بعد چیف سیکریٹری نے نوٹس لیا تھا اور ان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے اونٹوں پر اس علاقے میں لوگوں کے لیے راشن بھیجا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ضلع لسبیلہ میں اندرونی رابطہ سڑکوں میں سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان شاہراہ سے منسلک 75 رابطہ سڑکیں سیلاب کے باعث بند ہوئی تھیں لیکن اب سول انتظامیہ نے فوج کی مدد سے ان میں سے 65 کو بحال کر دیا ہے۔

اہلکار کے مطابق لسبیلہ سے متصل بارشوں کے باعث ضلع خضدار کے علاقے شاہ نورانی میں زاہرین اور مختلف دیہات کے سینکڑوں لوگ بھی رابطہ سڑکیں بند ہونے سے پھنس گئے تھے جن کو لسبیلہ کی جانب سے فوج کے اہلکاروں نے راشن پہنچایا ہے۔

اسی طرح لسبیلہ سے متصل آواران کے علاقوں میں بھی رابطہ سڑکیں سیلابی ریلوں کے باعث بند ہو گئی تھیں جس کے باعث لوگ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جانے کے لیے خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے رہے۔

آواران سے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ایک ویڈیو میں لوگوں کو ایک دشوار گزار پہاڑ کو عبور کرنے میں انتہائی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی طرح سیلابی ریلوں نے ضلع کچھی میں جہاں درہ بولان میں روڈ اور ریل نیٹ ورک کو بری طرح سے متاثر کیا وہیں اس کے میدانی علاقے بھی زیر آب آ گئے ہیں۔

اگرچہ ضلع کچھی میں ڈھاڈر سے آگے سبی اور اس کے بعد سندھ کے ضلع جیکب آباد تک راستہ کھلا ہے لیکن اس کے پہاڑی علاقوں میں راستوں کے خراب ہونے اور میدانی علاقوں کے زیر آب آنے کے باعث لوگوں کے لیے آمد و رفت ممکن نہیں۔

کچھی میں درہ بولان میں راستے بند ہونے سے پی ڈی ایم اے کے اہلکاروں نے متعدد دیہات سے دو سو سے زائد افراد کو ریسکیو کیا۔

کوئٹہ کے قریب پہاڑی علاقوں میں بھی راستے بند ہیں؟

کوئٹہ کے مشرق اور شمال مشرق میں بھی رابطہ سڑکوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

کوئٹہ کے مشرق میں پہاڑی علاقوں میں کوئلے کی کانوں کی جانب جانے والے راستے بند ہو گئے ہیں جس سے ان علاقوں میں کان کنوں کے علاوہ دیگر لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کوئٹہ کے قریب اسپین کاریز میں کوئلہ کان ڈپو میں کوئلے کے کاروبار سے وابستہ مدثر احمد نے بتایا کہ ’مارواڑ اور گردونواح میں کوئلہ کی کانوں کے راستے بند ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں سیلابی ریلوں سے راستے بند ہو گئے وہاں سینکڑوں ٹن کوئلہ جو کانوں کے باہر فروخت کے لیے نکالا گیا تھا وہ سیلابی ریلوں کے باعث بہہ گیا۔‘

مدثر احمد نے بتایا کہ ’اسپین کاریز کی ڈپو سے پہلے روزانہ سو کے لگ بھگ کوئلے کی گاڑیاں پنجاب کے لیے نکلتی تھیں لیکن ایک ماہ سے ایک گاڑی بھی نہیں گئی۔‘

کوئٹہ کے گردونواح کے علاقوں کے علاوہ پشین، قلعہ سیف اللہ، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھاں اور ژوب ڈویژن میں کوہ سلیمان اور شیرانی کی پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کی کیا صورتحال ہے ؟

بلوچستان میں متعدد بین الصوبائی اور بین الاقوامی راستے ہیں لیکن ان میں سے جو معروف شاہراہیں تھیں گذشتہ دو ڈھائی مہینے کی طوفانی بارشوں کے باعث متعدد بار بند ہوئیں۔

تاہم ان میں سے زیادہ تر حالیہ طوفانی بارشوں کے آخری سپیل کے بعد دس روز سے زائد کے لیے بند رہیں جبکہ دو تاحال بند ہیں۔

ان میں سے ایک کوئٹہ کراچی ہائی وے کو چار روز قبل ایک مرتبہ پھر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔

درہ بولان کے راستے بلوچستان اور سندھ اور فورٹ منرو کے راستے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان شاہراہ کو سنیچر کے روز کسی حد تک بحال کیا گیا تاہم ان کی مکمل بحالی میں اب بھی اچھا خاصا وقت لگے گا۔

بلوچستان کے خیبر پختونخوا سے ژوب دانہ سر روڈ اور سندھ سے خضدار رتو ڈیرو کے ذریعے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ اب بھی منقطع ہے۔

بلوچستان کا ایران سے آر سی ڈی شاہراہ کے ذریعے رابطہ دو مرتبہ چھ روز کے لیے منقطع رہا تاہم چمن کے راستے افغانستان سے شاہراہ پر ٹریفک بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

شاہراہوں کی بندش سے اشیا خوردونوش کی قلت اور فریش فروٹ کو نقصان

بلوچستان میں شاہراہوں کی بندش سے جہاں متاثرین کو ریلیف پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں اس سے بلوچستان میں اشیا خوردونوش کی قلت پیدا ہونے کے علاوہ تازہ پھلوں کو مارکیٹ تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل حاجی عبدالرحمان بازئی نے بتایا کہ ’بلوچستان کی شاہراہیں 25 جون سے مکمل بند رہیں جس کے باعث فریش فروٹ اور سبزیوں کی گاڑیاں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’شاہراہوں کے کھولنے میں تاخیر اور ان پر ٹریفک کو رواں دوان رکھنے میں ناکامی پر پھل اور سبزیاں خراب ہونے کے باعث ٹرک ڈرائیوروں نے ان کو راستے میں گرا دیا اور واپس آ کر زمینداروں سے ان کے کرایے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’نہ صرف اس سے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ قلت پیدا ہونے سے مارکیٹوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔‘

دوسری جانب شاہراہوں کی بندش سے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آٹے اور دیگر اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

کوئٹہ کے ایک شہری محمد مرسد نے بتایا کہ جب وہ شہر کے مختلف یوٹیلیٹی سٹورز پر گئے تو ان پر آٹا دستیاب نہیں تھا۔

ٹی این ٹی کالونی میں شہر کے ایک بڑے یوٹیلیٹی سٹور کے منتظمین نے بتایا کہ راستوں کی بندش کے باعث آٹا نہیں آ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کئی دکانوں پر آٹا دستیاب نہ ہونے کے بعد انھیں ایک دکان سے مہنگے داموں چکی کا پسا ہوا چند کلو آٹا ہی ملا۔‘

رابطہ سڑکوں کی بحالی کے حوالے سے حکام کا کیا کہنا ہے؟

بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میرضیاءاللہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان کے اندرونی اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ کراچی ہائی وے کو پہلے بحال کر دیا گیا جبکہ درہ بولان کے راستے بلوچستان کا سندھ سے رابطہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے بحال کر دیا گیا لیکن اس شاہراہ پر بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کچھ وقت لگے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ڈیرہ غازی خان کے راستے بلوچستان کا پنجاب سے رابطہ بحال کر دیا گیا ہے اور اس سے قبل کوئٹہ اور ایران کے درمیان ہائی وے کو بھی بحال کر دیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک بین الاضلاعی رابطہ سڑکوں یا اضلاع کے اندرونی رابطہ سڑکوں کی بحالی کی بات ہے تو تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو پانچ پانچ کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں اور انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ مشینری ساتھ ساتھ دیگر مشینری کرائے پر حاصل کر کے شاہراہوں کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔‘