آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان سیلاب: ایسی بارشیں کسی بھی ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں، ماہرین
- مصنف, جیورجینا رنارڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز کلائمیٹ اینڈ سائنس
ماحولیاتی تبدیلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب دنیا بھر کو خبردار کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ایک سائنسدان نے بی بی سی کو بتایا کہ ریکارڈ توڑ بارشیں غریب ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
انسانوں پر اس آفت کے اثرات بہت واضح ہیں، جمعہ کے روز مزید 2000 افراد کو سیلابی ریلوں سے بچایا گیا، اور حکام سیلاب کے نتیجے میں ملک کی تقریباً آدھی فصلوں کی بربادی کی وجہ سے خوراک کی کمی کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔
ملک کے اندر نا انصافی کا ایک احساس جنم لے رہا ہے۔ عالمی حدّت (گلوبل وارمنگ) کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے، مگر ملک کا جغرافیہ اس کی کمزوری ہے۔
پاکستان کی وفاقی وزیر شیری رحمان نے رواں ہفتے کے دوران کہا تھا کہ ’ایک تہائی پاکستان حقیقی معنوں میں زیر آب آ چکا ہے، جو ہر اس حد کو پار کر چکا ہے جو ہم نے ماضی میں دیکھی تھی۔‘
دنیا کے نقشے پر پاکستان اس جگہ پر واقع ہے جہاں اسے دو موسمی نظاموں کا اثر سہنا پڑتا ہے۔ ایک کی وجہ سے سخت گرمی اور خشک سالی آتی ہے، جیسا کہ مارچ میں ہوا، اور دوسرا نظام مون سون کی بارشیں لاتا ہے۔
پاکستان کی زیادہ تر آبادی دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ رہتی ہے جو مون سون میں بھر جاتا ہے اور کبھی کبھی کنارے توڑ کر سیلاب لاتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور شدید مون سون کے باہمی تعلق کو بیان کرنے والی سائنس نہایت سادہ ہے۔ عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہوا اور سمندر کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں اور زیادہ بخارات بننے لگتے ہیں۔ گرم ہوا زیادہ نمی جذب کرتی ہے جس سے مون سون کی بارشوں میں زیادہ شدت پیدا ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پوٹسڈیم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ اِمپیکٹ ریسرچ سے وابستہ انجا کیٹزنبرگر کا کہنا ہے کہ سائنسدان ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے انڈیا میں گرمیوں کے دوران مون سون کی بارشوں کی اوسط میں اضافے کی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔
مگر پاکستان میں ایک چیز ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے میں اسے کمزور بناتی ہے، اور وہ ہیں اس کے عظیم گلیشیئر۔
ملک کے شمال میں موجود گلیشیئرز کو ’تیسرا قطب‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں موجود برف قطب شمالی اور جنوبی سے باہر کسی بھی خطے سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے پروگرام برائے ترقی کے مطابق دنیا میں گرمی بڑھنے کے ساتھ گلیشیئر میں موجود برف بھی پگھل رہی ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں موجود گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جن کی وجہ سے 3000 جھیلیں بن چکی ہیں۔ ان میں سے 33 کے اچانک پھٹ جانے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں مکعب میٹر پانی اور ملبہ بہہ کر 70 لاکھ لوگوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ مل کر اچانک سیلاب آنے کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پہلے سے خبردار کرنے والا نظام یا وارننگ سسٹم نصب کر رہے ہیں اور ساتھ ہی حفاظتی بند اور دوسرا انفراسٹرکچر بھی تعمیر کر رہے ہیں۔
ماضی میں غریب ممالک جن میں سیلاب کو روکنے والے بند یا پشتے کمزور ہوتے تھے اور جہاں مکانات بھی اچھے معیار کے نہیں تھے زیادہ بارشوں کے اثرات کا مقابلہ نہیں کر پاتے تھے۔
سائنسدان ڈاکٹر فہد سعید نے بی بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان گرمیوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کے مقابلے کی سکت امیر ملکوں میں بھی نہیں تھی۔
ڈاکٹر سعید کا کہنا تھا ’یہ ایک بالکل الگ وحشی ہے، یہ بارشیں اور سیلاب اس قدر شدید ہیں کہ مضبوط سے مضبوط بند بھی ان کے سامنے نہ ٹھہر پاتے۔‘
وہ 2021 میں جرمنی اور بیلجیم میں آنے والے سیلابوں کا ذکر کرتے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ 30 برس کی اوسط کے مقابلے میں جون سے اگست تک 190 فیصد زیادہ بارش ہوئی جو مجموعی طور پر 390.7 ملی میٹر بنتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے لوگوں کو سیلاب کے بارے میں پہلے سے خبردار کر کے اپنی ذمہ داری ’معقول‘ طور پر نبھائی ہے۔ اور ملک کے اندر سیلاب سے بچاؤ کا نظام موجود ہے مگر اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سعید کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کا کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں حصہ سب سے کم ہے انھیں سب سے زیادہ مصیب جھیلنا پڑ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’متاثرین بغیر وسائل کے مٹی کے گھروں میں رہ رہے ہیں، اور کلائمیٹ چینج میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔‘
سیلاب سے وہ علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں جہاں عام طور پر ایسی بارشیں نہیں پڑتیں، جن میں جنوبی سندھ اور بلوچستان کے علاقے شامل ہیں جو عام طور پر خشک یا نیم خشک تصور کیے جاتے ہیں۔
یوسف بلوچ کی عمر 17 برس ہے اور وہ بلوچستان میں رضاکارانہ کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر موجود عدم مساوات کی وجہ سے صورتحال اور بگڑ گئی ہے۔ وہ جب 6 سال کے تھے تو انھوں نے خود اپنا گھر پانی میں بہتے دیکھا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’شہروں میں رہنے والے اور مراعات یافتہ لوگوں کو سیلابوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
وہ کہتے ہیں، ’لوگوں کو ناراض ہونے کا حق ہے۔ کمپنیاں اب بھی بلوچستان سے تیل اور گیس نکال رہی ہیں، مگر وہاں رہنے والے بے گھر ہو چکے ہیں جن کے پاس نہ خوراک ہے اور نہ کوئی پناہ۔‘ ان کے خیال میں حکومت عوام کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ڈاکٹر سعید کا کہنا ہے یہ سیلاب ان حکومتوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کافی ہونے چاہیے جنھوں نے کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی مختلف کانفرنسوں میں وعدے کیے تھے۔
انھوں نے کہا، ’یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کے اوسط درجۂ حرارت میں 1.2 سینٹی گریڈ کا اضافہ چکا ہے ۔۔۔ اس سے زیادہ اضافہ پاکستان کے لوگوں کے لیے سزائے موت کے برابر ہوگا۔‘